آپ کا کیا خیال ہے؟
ایک کامیاب شخص جو ایک بڑے شہر کے ایک بڑے ادارے میں ایک اونچے عہدے پر فائز تھا، ایک دور دراز مقام پر کچھ دن چھٹیاں گزرانے گیا۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے چھوٹے سے گھر کے باہر دن کے وقت بیٹھا اونگھ رہا ہے۔ یہ اسے بہت عجیب لگا۔ اس نے اس اونگھتے ہوئے شخص سے جا کر کہا،“میاں تم شہر جا کر کوئی نوکری کیوں نہیں کرتے؟”
اونگھتے شخص نے ایک آنکھ کھول کر پوچھا،“کیوں؟”
کامیاب شخص بولا،“اس لیے کہ آج کل شہر میں اچھے پیسے بن جاتے ہیں۔ تم خاصی رقم کما لو گے”۔
بیٹھا ہوا شخص پھر بولا،“کیوں؟”
پہلے شخص نے اسے سمجھایا،“ دیکھو اگر تم وہاں اچھی رقم کمانا شروع کر دو گے تو کچھ عرصے میں اس قابل بھی ہو جاو گے کہ ایک مناسب رقم پس انداز کر سکو۔ یہ جمع شدہ رقم آہستہ آہستہ اتنی ہو جائے گی کہ تم اسے کسی مناسب جگہ انویسٹ کر سکو گے۔اس سے کچھ سالوں میں تمہاری آمدن کا ایسا سلسلہ بن جائے گا کہ جب تم ریٹائر ہو جاو گے تو تم کو کام کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔”
اس پر اونگھتے ہوئے شخص نے دونوں آنکھیں کھول لیں اور بولا،“ کام تو میں اب بھی نہیں کر رہا”
آپ کے خیال میں ان دونوں میں سے کس شخص کی سوچ درست تھی؟
بہتر زندگی

میں تو بھئی ثانی الذکر کے خیالات سے بالکل متفق ہوں۔ مذاق برطرف، بندے کو صرف اتنا کام کرنا چاہیے کہ بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اور اگر زیادہ پیسہ کما رہا ہے تو بھی اتنا وقت تو اپنے لیے نکالنا چاہیے کہ زندگی سے لطف اندوز بھی ہو سکے۔ یہ کیا ک ساری عمر کولھو کے بیل کی طرح کام کرتا رہے تاکہ آخری عمر میں عیش کرسکے، جب ہر امنگ ہی مر چکی ہو یا جسم میں ہی اتنی سکت نہ ہو کہ زندگی سے لطف اندوز ہوسکے۔
دونوں ہی اپنی جگہ ٹھیک ہیں
اونگھنے والے شخص کی بات ٹھیک تھی
اگر تو کہانی آپ کی اپنی تخلیق ہے تو اسے کچھ اور آگے بڑھانا چاہیے تھا، دونوں افراد اپنے اپنے موقف پر کچھ مزید بحث کرتے۔ دونوں کے موقف میں ہی وزن ہے کہ چونکہ دین ہمیں ایک طرف محنت کر کے روزی کمانے کا حکم دیتا ہے دوسرے طرف جتنا رزق مل رہا ہے اس پر قناعت کرنے کا بھی ، اگر معاشرتی حوالے سے دیکھا جائے تو ایک فرد کا محنت کرنا ہی بہتر ہے، اجتماعی طور پر یہ معاشرے کی حالت میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔
کامياب کی
میرے خیال میں پہلا شخص بہتر ہے، فارغ نہیں بیٹھنا چاہیے۔ سیر و تفریح کے لیے بھی نکلنا چاہیے، کیونکہ یہ وقت برباد کرنے میں نہیں آتا۔
دونوں ٹھیک ۔لیکن مجھے وہ مہاتما جی کو جوتے کی پیشکش والی کہاوت یاد آگئی۔
@ یاسر خوامخواہ جاپانی:
تصیح کہاوت نہیں حکایت
ميرا خيال ہے ابھی فلم آدھی ہوئی ہے يعنی انٹرول ہوا ہے باقی فلم ديکھنے کے بعد انجام کا پتہ چلے گا
ستر کی دہائی میں پاکستان میں ایک کتاب چھپی تھی کہ کامیابی کیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کامیابی کا تصور ان کے نزدیک کیا ہے ۔ جنرل شیر علی پٹوڈی ، پنسٹھ کی جنگ کی مشہور نرس بریگیڈیر نصرت جہاں اور مولانا مودودی کے نام مجھے یاد رہ گئے ہیں جنہوں نے اپنے تاثرات دیے تھے ۔ مجموعی طور پر ہر ایک شخص کے نزدیک کامیابی کا تصور مختلف ہے ۔
آپ نے جو کہانی بیان کی ہے وہ دنیا کے مختلف ممالک کے ادب میں کچھ کمی بیشی کے ساتھ اسی طرح بیان کی گئی ہے ۔ میرے خیال میں اگر کوئی شخص زندگی میں توازن کو اختیار کرتا ہے تو کامیاب رہتا ہے ۔ وہ تمام ذمہ داریاں جو اس پر معاشرے ، مذہب اور اپنی ذات کی جانب سے عائد ہوتی ہیں اگر ان کو ادا کر نے کے لئے کوشش کر رہا ہے تو کامیاب ہے ۔
ایک اللہ کے نیک بندے سے میں نے پوچھا کہ کامیابی کیا ہے تو اس نے کہا کہ کامیابی کچھ نہیں ہوتی ۔ نیک مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرتے چلے جانا ہی کامیابی ہے ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کامیاب ہو گیا ہے تو سمجھیے کہ اس کی ترقی رک گئی ہے ۔ کامیابی سفر کا نام ہے ۔
میرے خیال میں تو پہلے والے کی بات ہی درُست ہے کہ بِلا وجہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنے کی بجائے کُچھ نا کُچھ کرتے رہنا ہی بہتر ہوتا ہے،،،،
کامیابی بس وہ مقام ہے جہاں انسان مطمئن ہو۔
لیکن
انسان تو کبھی مطمئن ہو ہی نہیں سکتا۔
اونگھتا ہوا شخص کہیںواقعی تو اونگھ نہیںرہا تھا
@ بیبلی:
سوچتا تو ہر کوئی یہی ہے کہ میں صرف اتنا ہی کام کروں گا کہ بس جس سےبنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ جب آمدن بڑھتی ہے تو انسان ضرورتیں اور خرچےبھی بڑھا لیتا ہے۔پہلے جن چیزوں کو آسائش کہتا تھا ان کو اب بنیادی ضرورت قرار دے کر کمانے میں جتا رہتا ہے۔
باقی یہ بات تو واقعی بے سود ہے کہ صحت اور توانائی والا سارا وقت انسان کمانے میں اس لیے لگا دے کہ میں آخر میں عیش کروں گا۔ کام اور تفریح، کمانا اور خرچ کرنا ساتھ ساتھ چلے تو بہتر ہے۔
سعد :
اور دونوں ہی غلط بھی ہیں اپنی جگہ
بلوُ :
بہت خوب
یاسر عمران مرزا :
کہانی میری تخلیق نہیں ہے۔انگریزی کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس کے کل ڈھائی سو صفحات تھے۔ اس کے ایک صفحے پر یہ قصہ لکھا تھا۔
بات کو آگے تو اب یہاں پڑھنے والے ہی بڑھائیں گے تبصرہ کر کے۔
پھپھے کٹنی :
ٹھیک ہے جی
عامر شہزاد :
فارغ تو واقعی نہیں بیٹھنا چاھیے۔انسان پاگل ہو جاتا ہے۔
یاسر خوامخواہ جاپانی :
وہ کونسی کہاوت تھی جناب؟
افتخار اجمل بھوپال :
نہیں سر یہ انٹرول نہیں ہے۔۔۔پوری فلم اتنی ہی تھی
@ محمد ریاض شاہد:
یہ بات درست ہے کہ ہر ایک شخص کے نزدیک کامیابی کا تصور مختلف ہے۔اور معاملات میں توازن اختیار کرنا واقعی بہت ضرو ری ہے اور بہت احسن ہے مگر عملی طور پر اسے اختیار کرنا یا ہمہ وقت اختیار کیے رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان بہت آسانی سے عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔
شاہدہ اکرم :
بِلا وجہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنے والا تو بہت جلد شدید ذہنی دباو اور ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے۔
عثمان :
دونوں باتیں بالکل صحیح ہیں
شازل :
اونگھ تو وہ بہر حال رہا ہی تھا۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی کامیابی کاانحصارہرکسی کی سوچ میں ہوتاہے۔دراصل یہ دنیاکی زندگی عارضی ہےیہاں ہمیں اتناکرناچاہیےکہ ضروریات زندگی احسن طریقےسےپوری ہوجائیں اورزیادہ فکرآخرت کی ہونی چاہیےیہاں پرموت کوبھی موت آجائےگی۔اللہ تعالی ہمیں صراط المستقیم پرچلنےکی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال :
روزانہ جس طرح چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے پاکستان میں تو اس میں یہ تعین کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ کتنا کما ئیں کہ ضروریات زندگی احسن طریقےسےپوری ہوجائیں۔۔۔یہ بہت بڑا مسلہ ہے۔
بات تو ٹھیک کی ہے جناب نے۔ جب ابھی بغیر کام کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے تو اتنی مشقت کرنے کا کیا فائدہ؟
عمران اشرف :
بالکل بے کام کی زندگی کسی کام کی نہیں ہوتی۔
@ احمد عرفان شفقت:
ہی ہی ہی ہی یہ سوال کسی سست الوجود سے پوچھیے پھر دیکھیں کیا جواب ملتا ہے۔
غربت وہ لعنت ھے جس سے انبیاء اکرام نے پناہ مانگی ھے، ھدیث پاک ھے کے غربت کفر اور شرک کی طرف لے جاتی ھے، یھ نظریھ بلکل غلط ھے کے اسلام پیسھ کمانے یا امیری کو پسند نہیں کرتا، کسی صحابی کا یا کسی بزرگ کا قول ھے کے پیسھ مومن کی ڈھال ھے، اور خاص طور سے اس دور میں تو مسلمانوں کو پیسے کے لحاظ سے بہت مظبوط ھونا چاہیئے خالی ھاتھ اور خالی پیٹ پوری دنیا پھ اسلام کا غلبھ کیسے ممکن ھے؟ اور یھ سب صرف کام کرنے سے ہی ممکن ھے اونگنے سے نہیں۔ کسی نے کہا تھا کے غلام اگر سو رہا ھو تو اسے نا جگاو ھو سکتا ھے کے وہ آزادی کا خواب دیکھ رہا ھو، مگر خلیل جبران کہتا ھے کھ غلام اگر سو رہا ھو تو اسے پاوں کی ٹھوکر مار کے جگاو اور اسے بتاو کے آزادی سونے سے حاصل نہیں ھوتی۔ یہاں تو پوری قوم ہی غلامی میں جی رہی ھے۔
@ گیلی دھوپ:
آپ نے بجا فرمایا۔۔۔غربت بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ انسان لاچار ہو جاتا ہے۔ اللہ سب کو اس سے اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
آپ ہمارے نوزائیدہ بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوش ہوئی ۔ آپ تو، ایمان سے، تبصروں پر ناراض ہی نہیں ہوتے ۔
آپ نے چونکہ بظاہر ناکام شخص کی عمر اور بیلانگنگز کا ذیادہ زکر نہیں کیا اور باقی کی ڈسکشن پڑھنے کے ناکافی ٹائم کے باعث تبصرہ نہ کرنے کی معزرت قبول کیجئیگا ۔امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔
@ جاہل اور سنکی، جہالستان:
آپ کا تبصرہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ آپ کا بھی شکریہ
کامیابی کیا ہے
یہ تو ہر انسان کی اپنی سوچ پر منحصر ہے
کامیابی صرف دولت روپے پیسے اور رتبے عیش آرام کی نہیں ہے
کامیابی کسی بھی مقصد میں کامیاب ہونے کا نام ہے
اور ہر انسان کا مقصد جدا ہوا کرتا ہے
@ طارق راحیل:
صحیح۔ کامیابی کیا ہے اس بارے میں مختلف لوگ مختلف راے رکھتے ہیں۔