وعدہ خلافی
آنا تھا اس کو پر نہیں آئی یہ بھی عجب ہی بات ہوئی اسی سوچ میں شام ڈھلی اور دھیرے دھیرے رات ہوئی جانے اب وہ کہاں پہ ہو گی عنبر کی مہکار لیئے بیٹھے رہ گئے ہم تو یونہی پھولوں کے کچھ ہار لیئے

آنا تھا اس کو پر نہیں آئی یہ بھی عجب ہی بات ہوئی اسی سوچ میں شام ڈھلی اور دھیرے دھیرے رات ہوئی جانے اب وہ کہاں پہ ہو گی عنبر کی مہکار لیئے بیٹھے رہ گئے ہم تو یونہی پھولوں کے کچھ ہار لیئے
خاص طرح کی سوچ تھی جس میں سید ھی بات گنوا دی چھوٹے چھوٹے وہموں ہی میں ساری عمر بتا دی