کچھ لوگوں کا مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

رہنے کو انہیں اپنا اچھا خاصا ایک گھر میسر ہوتا ہے۔کرائے کے گھر میں رہنے کے کیا جھنجھٹ ہوتے ہیں اس سے وہ لوگ قطعی نا آشنا ہوتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ بل کتنا آتا ہے، انہیں گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔فرِج ان کا ہر روز بھانت بھانت کی کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا رہتا ہے۔ ریٹ اور ڈیٹ سے وہ لوگ بے نیاز ہوتے ہیں۔پورا مہینہ جس دن بھی جو دل چاہے جا کر اپنی پسند کی دکان سے خرید لیتے ہیں۔ جب دل کرے اپنی مرضی کے ریستوراں میں جا کر کھانا کھا لیتے ہیں۔سارا سال ان کا پرس پنج ہندسی کیش سے روزبھرا رہتا ہے۔

سفر کرنے کو ان کے پاس اپنی گاڑی ہوتی ہے جس کا ٹینک وہ خالی ہونے سے پہلے ہی پیٹرول سے لبا لب بھروا لیتے ہیں۔دور کے سفر کے لیے جہاز استعمال کرتے ہیں۔ انہیں زندگی بھر پتا ہی نہیں چلتا کہ بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے سفر میں کیا گزرتی ہے اور موٹر سائکل پر پورا خاندان ڈھونا کیا معنی رکھتا ہے۔سال میں ایک دو بارکسی پرسکون جگہ پر جا کر چھٹیاں بھی گزارتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بیماری اور معذوری سے بھی بچایا ہوتا ہے۔ تھانوں، کورٹ کچہری سے بھی دور رکھا ہوتا ہے۔سرکاری محکموں میں اپنے کام کے لیے دھکے کھانے کی نوبت بھی ان کی زندگی میں کبھی نہیں آئی ہوتی۔ غرض کہ کمال بےفکری اور آسانی کی زندگی گذار رہے ہوتے ہیں۔

اس سب کے باوجود ان کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ روٹین کی زندگی سے نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی کی یکسانیت سےبورہو چکے ہیں۔اب ان بے خبر لوگوں کو کون بتائے کہ بھائی یہ روٹین تو نعمت ہے۔ یہ جو ہم صبح اٹھتے میں اور رات سونے تک بغیر کسی خوف و رنج سے گزرے اپنے تمام کام ترتیب سے کر جاتے ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن چونکہ بیچ میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی اس لیے ہم جان ہی نہیں پاتے اس بات کی قدر۔ہم شاکی اور ملول رہتے میں کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہم گذار رہے ہیں۔بس ایک ہی روٹین روز ایک جیسی۔ یک رنگی۔ بے کیف۔

اچھا لیکن آپ نےکبھی کسی کو ایسا کچھ بتاتےبھی تو سنا ہو گا :

”جناب وہ اچھا بھلا روٹین کے مطابق صبح اٹھا۔ دفتر کے لیے تیاری کر رہا تھا کہ بس اچانک فالج کا ایسا اٹیک ہوا۔۔۔“

”بھائی وہ ہم دوپہر کا کھانا معمول کے مطابق کھا کر ابھی بیٹھے ہی تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ چھوٹا بھائی سیڑھیوں سے گر گیا ہے۔بس تب سے سب بھاگے پھر رہے ہیں۔۔۔“

”یار میں روزانہ کی طرح روٹین کے رستے سے دکان سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔ایسی بھگدڑ مچی کہ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا ہوا ہے۔ آناً فاناً پولیس کی ایک وین وہاں نمودار ہوئی اور اور لوگوں کے ساتھ مجھے بھی اس میں بٹھا کر یہاں حوالات لے آئے ۔ اس دن سے یہاں ایڑیاں رگڑ رہا ہوں،کوئی شنوائی نہیں۔۔۔“

یا پھر کسی ہسپتال کے وارڈ میں جا کر مختلف لوگوں سے جانیں روٹین کی قدر۔ اور پوچھیں یہ بور ہونا کیا ہوتا ہے۔