بدگمانی بڑھائیں تو بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ آپس کی دوریاں اتنی بڑھ جائیں گی کہ معاملات کو سلجھانا بہت مشکل نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ سو بہتر تو یہی ہے کہ بدگمانی شروع ہی نہ ہونے دیں۔ چیزوں کو واضع انداز میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ بات جو ہو اور جتنی ہو اسے ویسا ہی اور اتنا ہی دیکھیں۔ اندازے لگانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں اپنےتخیل سے زیادہ کامن سینس کو کام میں لائیں۔

دلوں میں وسوسوں اور ابہام کو پلنے دیں تو وہ بہت بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا توڑ آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ دوسرے سے وہ بات کہہ ڈالیں جو اس کے بارے میں آپ کو پریشان کر رہی ہے یا غصہ دلا رہی ہے۔ ایسا کرنے سے غلط فہمی دور ہو جانے کا امکان ہے۔اور غلط فہمی دور ہو جائے تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایک خوامخواہ کے دباو سے آزادی مل جاتی ہے۔زندگی خوشگوار لگنے لگتی ہے۔

بسا اوقات ایک بات دوسرے کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی مگر ہم اپنے طور پر تصور کر لیتے ہیں کہ ایسا ایسا ہوا ہے۔ مھض کسی کے چہرے کے تاثرات سے اندازے لگاتے رہنا کہ دوسرا آپ کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ رہا یا کوئی فون پر بات کر رہا ہو تو پاس سے گزر تے ہوئے ایک آدھ فقرا یا فقرے کا کچھ حصہ سن کر اپنے دل کو یقین دلا لینا کہ یہ گفتگو میرے خلاف کی جا رہی ہے یا کسی کے ہلکے پھلکے مذاق کے رد عمل میں سیخ پا ہو جانا کہ یہ تو اس نے مجھے طعنہ دیا ہے، میری توہین کی ہے۔۔۔یہ اور اس سے ملتے جلتے دیگر ذہنی رحجانات بد گمانیوں کو جنم دینے اور پھر ان کو استحکام دینے کا باعث بنتے ہیں۔

سورۃ الحجرات کی آیت 12 میں اللہ نے ہمیں بدگمانی سے بچنے کا حکم دیاہے۔ لیکن شیطان جو ہمہ وقت منفی اور فاسد خیالات ہمارے دلوں میں ڈالنے کو بیتاب اور چوکس رہتا ہے وہ ہمیں ایسے اقدامات سے روکے ہی رکھتا ہے جن سے باہم بد گمانیاں دور ہونے کا کچھ سامان ہو سکے۔ اور شیطان صرف جِنّوں میں ہی نہیں ہوتے۔ بد طینت انسانوں کے روپ میں بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لگائی بجھائی کرنے والے لوگ خاندانوں میں، اداروں میں، مارکیٹوں میں حتیٰ کہ مساجد میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان سے چوکنا رہنا ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔