اب وہ مصری شوہر تو قائل تھا اس بات پر کہ طلاق کے بعد اب ان دونوں کے دوبارہ ازدواجی بندھن میں بندھنے کا واحد رستہ یہ حلالہ ہی ہے۔ تاہم وہ خاتون اس بارے میں کچھ شش و پنج میں تھی۔ لیکن آخر کار کچھ ایسا ہوا کہ وہ بھی اس بات کو مان ہی گئی۔ جب یہ ہو گیا تو اس آدمی نے اب بلڈنگ کے چوکیدار کو آمادہ کرنے کی ٹھانی۔

وہ چوکیدار ایک درمیانی عمر کا انڈین مسلمان تھا اورمعاشی حالات کی وجہ سے اب تک غیر شادی شدہ تھا۔ وہ ایک خاموش طبع شخص تھا جو اپنے کام میں مصروف رہتا تھا۔ بلڈنگ کے مکینوں نے شاذ و ناذر ہی اسے بے کار کی گپ شپ وغیرہ کرتے دیکھا تھا۔ بیشتر وقت وہ بلڈنگ کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی میں ہی مگن رہتا تھا۔

سو اس کے پاس جب وہ مصری یہ تجویز لے کر آیا کہ وہ اس کی سابقہ بیوی سے شادی کر لے تو ظاہر ہے کہ وہ بھونچکا رہ گیا۔ اورجب اسے وضاحت سے بتا یا گیا کہ اس شادی کا اصل مقصد کیا ہے تو اس نے ان کے منصوبے کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ۔

لیکن وہ آدمی بھی اس بات پر کمر بستہ تھا کہ چوکیدار اس کی سابقہ بیوی سے شادی کر ہی لے لہذا وہ کچھ دن کے بعد پھر سے اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کو اس کی خدمات کے عوض ایک اچھی رقم کی پیشکش کی۔ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اگر یہ رقم کم ہے تو وہ اور زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ اس نے چوکیدار کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ کسی اور کو اس سارے معاملے کی کانوں کان خبر نہ ہو گی۔

سو آخر کار وہ چوکیدار راضی ہو ہی گیا۔

شادی کسی نہ کسی طور سرانجام پا ہی گئی اور چوکیدار خاموشی سے اس خاتون کو اپنے چھوٹے سےکمرے میں لے گیا۔ اس شادی کا نہ تو کوئ باقاعدہ اعلان ہوا، نہ کوئی تقریب منعقد ہوئی۔ نہ کوئی مہمان تھے نہ ہی کوئی مبارکبادوں کا سلسلہ بنا۔

گو کہ منصوبے کے مطابق اس چوکیدار نے اپنی بیوی کو اگلی صبح طلاق دینا تھی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ آخر جب چوبیس گھنٹے گزر گئے تو سابقہ شوہر صاحب کو شدید بےچینی ہونے لگی۔ سو اضطراب کے مارے اس بیچارے نے جا کر چوکیدار کا دروازہ پیٹا اور پوچھا کہ ابھی تک اس نے اس خاتون کو طلاق کیوں نہیں دی۔ جواب میں چوکیدار نے اس کو یقین دہانی کروائی کہ وہ تو طلاق دینے پر بالکل تیار ہے لیکن وہ بیوی طلاق سے انکاری ہے۔ ظاہر ہے اس مصری جوان کو چوکیدار کی اس بات کا ایک لمحے کے لیے بھی یقین نہیں آیا۔ وہ مان ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ عورت اپنے محبوب یعنی اس کو چھوڑ کر اس چوکیدار کی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے۔

لیکن چوکیدار ہی کی بات درست نکلی۔ اس خاتون نے اپنے سابقہ شوہر کو بتایا وہ اس کو ہر گز قابل بھروسہ نہیں سمجھتی کیونکہ وہ بہت خود غرض آدمی ہے اور ساتھ میں انتہائی غصیلا اور بد مزاج بھی۔ اسی لیے اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب ایسے آدمی کے ساتھ رہے گی جو اس کی عزت کرتا ہے۔ اس نے اپنے سابقہ شوہر کو بتایا کہ اسے اندیشہ ہے کہ اگر وہ پھر سے اس سے شادی کر لے گی تو کسی دن پھر غیظ و غضب اور طیش کے عالم میں وہ دوبارہ اس کو طلاق دے ڈالے گا۔

اس بلڈنگ میں تمام لوگ اس کہانی سے واقف ہیں کہ کسطرح ایک عام، سادہ سے چوکیدار کی شادی ایک جوان، پڑھی لکھی خاتون سے ہو گئی۔ اب ایک سال ہونے کو ہے اور وہ دونوں اکٹھے ہی رہ رہے ہیں۔

اور وہ مصری شہزادہ۔۔۔وہ اس بلڈنگ کوچھوڑکر جا چکا ہے۔
×××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××

یہ واقعہ میں نے نادیہ کے بلاگ پر پڑھا۔ واقعہ لکھنے کے بعد انہوں نے جہاں اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہاں ایک ایسے آدمی کا بھی ذکر کیا ہے جس نے پشاور سے حلالہ کے لیے اپنی خدمات ضرورت مند لوگوں کے لیے پیش کی ہیں۔ یہ 32 سالہ صاحب اپنے اشتہار میں فرماتے ہیں:

حلالہ اعتماد کے ساتھ۔۔۔وہ جوڑے جو دوبارہ اکٹھے ہونا چاہتے ہیں اور حلالہ کے خواہشمند ہیں وہ بہت اعتماد سے مجھ سے رابطہ کریں۔ ہر بات صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔ یہ محض ثواب کی خاطر ہے، اور کوئی غرض نہیں۔ آپ کوصرف رہائش اور ٹکت کا انتظام کر نا ہو گا۔ اور پھر بس مجھے دعاوں میں یاد رکھیے گا۔

اشتہار کے نیچے ان صاحب نے ایک تصویر بھی دی ہوئی ہے۔

پوسٹ کے آخر میں نادیہ نے اس ویڈیو کا لنک بھی دیا ہے جو ان لوگوں کے لیے دلچسپی کی حامل ہے جو تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں:

اس ویڈیو کے چھ حصے ہیں۔