ایک مرتبہ ایک گاوں میں دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک نے گاوں والوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ بندر خریدنا چاہتا ہے۔ جو کوئی بھی اس کا پاس بندر پکڑ کر لائے گا وہ اسے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔
گاوں والے بہت خوش ہوئے کیونکہ قریبی جنگل میں بندروں کی بھر مار تھی اور انہیں لگا کہ وہ تو یوں اچھی رقم بنا لیں گے۔

سب لوگ جا کر بندر پکڑ پکڑکر لاتے رہے اور وہ آدمی ان سے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے بندر خریدتا رہا۔ حتی کہ قریبی جنگل میں بندر اب تقریباً ختم ہونا شروع ہو گئے۔ گاوں والو ں نے بھی بندر پکڑنے کی کوشش اب ترک کر دی۔

تب اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب سے وہ گاوں والوں سے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا۔ اس سے گاوں والوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے ازسرنو مزید بندر ڈھونڈنے اور لانے کی سعی شروع کر دی۔ اب کے ان کے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت ہوتے رہے۔ لیکن جلد ہی اور بندر تلاش کرنا بہت ہی مشکل ہو گیا۔

اب اس آدمی نے نئی قیمت نکالی: آج سے بندر پچیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے جائیں گے۔ کچھ گاوں والوں نے پھر سے ہمت کی مگر اب کے بندر پکڑنا تو درکنار،کسی بندر کا نظر آ جانا بھی بڑی بات تھی۔ علاقے کے تمام بندر اس آدمی کے پاس بیچے جا چکے تھے۔

پھر ایک صبح اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب وہ گاوں والوں سے بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا لیکن چونکہ اس کو کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا ہے لہذا اس کی غیر موجودگی میں اس کا اسسٹنٹ اس کی جگہ اس نئی قیمت پر بندروں کی خریداری جاری رکھے گا۔

یہ کہہ کر وہ شخص اس گاوں سے چلا گیا۔

اب پچاس ڈالر فی بندر قیمت تو ایسی تھی کہ گاوں کے ہر بندے کا جی للچا رہا تھا۔ مگر کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ قرب و جوار سے اور بندر اب پکڑ کر لانا قطعاً ممکن نہ رہا تھا۔ جتنے بھی بندر تھے وہ سب اب تک اس آدمی کو بیچے جا چکے تھے جنہیں اس نے وہاں پڑے ایک پنجرے میں بند کر رکھا تھا۔

ایسے میں اس آدمی کے اسسٹنٹ نے گاوں والوں کو ایک تجویز پیش کی۔ اس نے کہا دیکھو اگر تم اس آدمی کو مزید بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کرنا چاہتے ہو لیکن اب مزید بندر دستیاب نہیں ہیں تو اس کا ایک حل ہے۔ یہ جو بندر سامنے پنجرے میں بند ہیں جو میرے باس نے تم سے خریدے تھے، یہ میں تم کو پینتیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کر سکتا ہوں۔ تم چاہو تو مجھ سے اس دام میں یہ تمام بندر خرید لو اور جب میرا باس شہر سے واپس آ جائے تو تم یہ سب بندر اس کو پچاس ڈالر فی بندر کی قیمت پر فروخت کر دینا۔

گاوں ولوں نے جانا کہ یہ تو جی وارے نیارے ہو گئے۔ وہ سب اپنے گھروں کو گئے اور اپنی تمام جمع پونجی لے کر آ گئے۔ انہوں نے وہ تمام کے تمام بندر پینتیس ڈالر فی بندر کی ادائیگی کر کے خرید لیے۔

اس دن کے بعد نہ تو انہیں کبھی وہ پہلے والا آدمی نظر آیا اور نہ ہی اس کا اسسٹنٹ۔ بس ہر طرف بندر ہی بندر نظر آتے تھے۔

کہتے ہیں سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے۔

کیا واقعی یوں ہی چلتی ہے سٹاک مارکیٹ یا کچھ اور بھی محرکات ہوتے ہیں حصص کی قیمتوں کے اتار چڑھاو کے پیچھے؟ آپ کا کیا تجربہ یا مشاہد ہ ہے؟