یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کی ایک رہائشی بلڈنگ میں وقوع پذیر ہوا جب تقریباً تین سال پہلے اس بلڈنگ میں ایک نوبیاہتا مصری جوڑا رہنے کے لیے آیا۔ یہ دونوں مصر سے کچھ عرصہ قبل اپنی اپنی نوکری کے سلسلے میں امارات آئے تھے۔ یہاں ان کی پہلی ملاقات مشترکہ دوستوں کی بدولت ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اور پھر شادی کر لی۔ وہ ایک اچھے قد کاٹھ کا وجیہ آدمی تھا اور خاتون بھی ایک خوبصورت گڑیا ہی لگتی تھی۔

دوسرے شادی شدہ لوگوں کی طرح ان دونوں میں بھی اختلافات، بحث، جھگڑا ہو جاتا تھا۔ حتیٰ کہ ایک دن ایسا بھی آیا کہ ان دونوں کو لگا کہ انکی جھک جھک اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب مفاہمت کا کوئی امکان نہیں۔سو انہوں نے طلاق کا رستہ اپنا لیا۔ طلاق کے بعد بھی وہ اسی بلڈنگ میں رہائش پذیر رہے لیکن اب الگ الگ اپارٹمنٹس میں۔

تاہم زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ موصوف پہ آشکارا ہوا کہ جناب اس خاتون کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس خاتون کی عدم موجودگی میں ان صاحب کو اپنے اندر میں ایک خلا محسوس ہونے لگا۔ اس آدمی کو زندگی اب بے معنی لگنا شروع ہو گئی۔ سو ایک دن وہ باہر اس عورت سے ملا اور اس کے لئے اپنی محبت کا اعتراف کر ڈالا۔ اس نے اس کو شادی کی ایک مرتبہ پھر پیشکش کی جو کہ اس خاتون نے اب کی بار بھی اشکبار آنکھوں کے ساتھ بخوشی قبول کر لی۔

بس صرف ایک مسئلہ تھا: شریعت کے مطابق ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ باقاعدہ طلاق ہو جانے کے بعد بس یونہی دوبارہ شادی کر لیتے۔ طلاق ایک ناخوشگوار چیز ہے اس لیے اس کے قواعد و ضوابط بھی ٹھوس قسم کے رکھے گئے ہیں تا کہ مرد حضرات جب جی میں آئے منہ اٹھا کر بیوی کو طلاق دینے نہ دوڑ پڑیں بلکہ اس انتہا ئی اقدام سے پہلے سو مرتبہ سوچیں، غور کریں۔

پھر ہوا یوں کہ ان دونوں کو کسی ناعاقبت اندیش نے حلالہ کا رستہ دکھایا۔ بتانے والے نے عارضی شادی کا یہ نسخہ ان دونوں کو اس طور بتایا کہ انہیں لگا کہ یہ توان کے معاملے کا بہت ہی سہل اور سیدھا سادہ حل ہے۔ اس جاہل نے اس آدمی کو کہا بس تم کوئی ایسا شخص ڈھونڈ لاو جو اس عورت سے نکاح کر لے- حقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد وہ شخص اس عورت کو طلاق دے دے گا۔ بس پھر تم اس عورت سے دوبارہ نکاح کر لینا، اتنی سی بات ہے۔

وہ دونوں بیچارے دوبارہ ایک دوسرے کی زندگی کا ساتھی بننے کے اس قدر آرزومند تھے کہ انہیں لگا کہ یہ ہی ان کی مشکل کا بہترین مداوا ہے۔ اپنی بے تابی میں وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر گئے کہ اس قسم کی عارضی شادی کی شریعت میں واضح اور شدید مذمت کی گئی۔

سو وہ اب ایک ایسے آدمی کی تلاش میں تھے جو اس خاتون سے عارضی طور پر شادی کر سکے۔ اس میں اب اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک ایسا شخص ڈھونڈا جائے جو اپنی بات کا پکا ہو اور وعدے کے مطابق اگلی صبح اس عورت کو واقعی طلاق دے دے۔ ایسا آدمی مل جانا کوئی آسان نہ تھا۔ اسی لیے انہیں اس تلاش میں خاصا وقت لگ گیا۔ لیکن آخر کار ان کو اپنا مطلوبہ بندہ مل ہی گیا جو ان کے منصوبے کے لیے بہت مناسب تھا۔

اور وہ تھا ان کی بلڈنگ کا چوکیدار۔
جی وہی المشہور ناطور۔

آگے کیا ہوا۔۔۔یہاں پڑھیے