عجب آزادمردتھا
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نوے سالہ ملنگ کو اس کے مریدوں نےڈھول ڈھمکوں کے ساتھ قبر میں اتارا۔
بابا دلدار حسین نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کی میت کو ڈھول اور باجوں کے شور میں تدفین کے لے جایا جائے۔
مرحوم کی میت پر کرنسی نوٹ بھی نچھاور کیے گئے۔
ٹیگز
دھیان
دھیان

شاید عصمت چغتائی اور ن میم راشد نے بھی کچھ انوکھی وصیت کی تھی کہ ان کو جلادیا جائے
رات کو قبر ستان چلیں؟
بھئی اس کا اپنا جنازہ ہے جیسے مرضی آخری سفر کرائے ۔ ہو سکتا ہے اسے اللہ سے ملنے کی بہت خوشی ہو رہی ہو اور اسے اس خوشی کے اظہار کی اور کوئی سمجھ نہ آ رہی ہو
شازل :
ن م راشد کا تو میں نے بھی پڑھا تھا کہ ان کی میت کو ان کی وصیت کے مطابق جلا دیا گیا تھا۔ گویا وہ بھی عجب آزاد مرد تھے۔ جناب کا اصل نام راجہ نذر محمد جنجوعہ تھا۔اکال گڑھ کے گاؤں کوٹ بھاگہ میں تقسیم سے سینتیس سال قبل پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ اب ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ ، تحصیل وزیر آباد میں علی پور چٹھہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
باقی عصمت چغتائی بھی آزاد مرد قسم ہی کی خاتون تھیں سو ان سے بھی بعید نہیں کہ انہوں نے بھی اسی قسم کے بعد از مرگ سلوک کا انتخاب کیا ہو۔
@ سعد:
@ یاسر خوامخواہ جاپانی:
محمد ریاض شاہد :
باکل سر، یہ معاملات مرضی اور سمجھ کی بنیاد پر ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اکثریت صحیح اور غلط کو پیمانہ بنانے کی بجائے اپنی مرضی اور سمجھ پر ہی انحصار کرتی ہے۔
پتا نہیں اس بابا جی کی کیا مجبوری تھی۔۔ ہو سکتا ہے اللہ والا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ تالی بھی بجاتے ہوں۔۔۔
واہ جی تدفین کا کیا خوب طریقہ اختیار کیا ہے ملنگ نے۔ یا سر بھائی میں بھی چل رہا ہوں آپ کے ساتھ۔۔
تانیہ رحمان :
مجھے خود ان کی بابت کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔
احمد عرفان شفقت :
عجب آزاد قسم کے لوگ ہیں یہ ایسی ویسی وصیتیں
مصنف و مبصرين سے معافی کا طلبگار ہوں
کہ بندہ اللہ کا ہوں اور دو جماعت پاس ہوں
ان بابا جی کی وصيت اور مبصرين کے مطابق ن م راشد اور عصمت چغتائی کی وصيت ميں بنيادی فرق کوئی نہيں کيونکہ ہندوؤں ميں کافی عمر پانے والے کی لاش کو ڈھول ڈھمکے کے ساتھ ليجايا جاتا تھا ۔ زيادہ تر جلاتے تھے اور کچھ دفن کرتے تھے ۔ ميں نے بچپن ميں پاکستان بننے سے قبل خود ديکھا تھا تو اپنے بزرگوں سے دريافت کيا تھا ۔ مسلمان ہو تو ہم جنازہ کہتے ہيں ہندو نڑويا کہتے تھے
پروگرام ان شا اللہ کا پتہ لگ جاتا تو ہم بھی شائد حاجری لگوا دیتے
@ افتخار اجمل بھوپال:
@ محمودالحق:
1000 سال ہندؤں کے ساتھ رہ کر آج تک ہمارے ملک کی اکثریت ان کی رسومات کے حصار سے نہیں نکل سکی۔ یہ افسوس ناک ہے بہت۔
اندر کی بات تو اللہ ہی جانے۔ مگر کچھ لوگوں کا انجام اللہ دنیا میں ہی دیکھا دیتا ہے۔ جلنے جلانے والی کہانی کچھ ایسی ہی لگتی ہی۔ ایسے کافی واقعات کا میں خود عینی گواہ بھی ہوں۔
ان صاحب کا عرس مبارک اگلے سال یقیناً اسہی طوم طراق سے منایا جائے گا۔ کیا خیال ہے؟ چلیں!!!!
جنازے کا یہ حال تھا تو عرس پہ تو نرگس ہی تشریف لائے گی ۔۔۔۔۔۔ کل حسب حال میں بھی اس کا تذکرہ تھا اور سہیل احمد نے خوب بیان بھی کیا تھا۔۔۔
@ عمران اشرف:
@ عین لام میم:
یہی تو مصیبت ہے۔۔۔ایسے واقعات کے بعد ابدی عرسوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ نہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات ہے اور نہ ہی اس سب کا اسلام سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔
شادی نہیں ہوئی ہوگی اُس ملنگ کی جبھی ڈھول بجوائے ہونگے بعد از مرگ ۔۔
حجاب :
اس حساب سے تو پھر یہ والا سارا طبقہ ہی کنوارہ مرتا ہے
بڑا عجیب طریقہ اپنایا ہے
یعنی مرحوم “چینج” چاہتے تھے ۔ زندگی میں نہ سہی مرنے کے بعد ہی سہی ۔
وسلام
@ طالوت:
لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے
محمودالحق :
عصمت کی پیدائش 15اگست سنہ 1911ءکو اتر پردیش کے مردم خیز علاقہ بدایوں میں ہوئی تھی، جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ ان کا آبائی وطن جودھ پور تھا اور وہیں عصمت کا بچپن بھی گزرا۔ ان کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ ان میں عصمت نویں نمبر پر تھیں۔
عصمت چغتائی سماج کی باغی تھیں انہوں نے ہر سطح پر بغاوت کی۔ وہ زندگی بھر حقوق نسواں کے لیے جدو جہد کرتی رہیں اور اپنی تحریروں کے شعلے کو تیز سے تیز تر کیا۔ لیکن تنازعات بھی مسلسل ان کا تعاقب کرتے رہے، جس سے وہ کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکیں۔
زندگی کی طرح موت کے بعد بھی عصمت چغتائی متنازع بنی رہیں انہوں نے مرنے سے قبل خود کو جلانے کی وصیت کی اور 24 اکتوبر 1991ءکو ان کی موت کے بعد انہیں ممبئی کے چندن باڑی شمشان میں جلا دیا گیا۔ یہ بات مسلمان ادیبوں کو پسند نہیں آئی اور تقریباً سبھی حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی۔
اور یوں اردو کی متنازع ترین ادیبہ کا سفرِ آخرت بھی تنازعات کی زد سے بچ نہیں سکا۔
وادی کیلاش میں بسنے والا قدیم قبائلی (جو اپنا تعلق سکنداعظم سے بتاتے ہیں)بھی اپنے جنازوں کو ڈھول کی گونج میںدفنا تے ہیں۔
@ طارق راحیل:
عصمت چغتا ئی کی بابت تفصیلات مہیا کرنے کا شکریہ۔ یوں باغی ہو جانا تھرلنگ تو ضرور لگتا ہو گا مگر اس سے انسان اپنی زندگی کا جو صرف ایک بار ہی ملتی ہے خود اپنے ہاتھو ں سے بیڑہ غرق کر لیتا ہے۔
@ دانیال دانش:
بالکل، میں نے بھی وادی کیلاش کے لوگوں کی بابت یہی پڑھا تھا۔
اللہ تعالیٰ ہماری موت ایمان پر فرمائے آمین