<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عرفانیات</title>
	<atom:link href="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com</link>
	<description>اردو کی اپنی ہی بات ہے</description>
	<lastBuildDate>Sun, 05 Sep 2010 17:03:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>جاتےرمضان میں کچھ باتیں</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-nights/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-nights/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Sep 2010 17:03:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[روح کی غذا]]></category>
		<category><![CDATA[بہتر زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[جنید جمشید]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1394</guid>
		<description><![CDATA[آئیے ایک تجربہ کریں مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2><span style="text-decoration: underline;">آئیے ایک تجربہ کریں</span></h2>
<p>مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا اور آخرت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔<br />
ان میں سے اپنی پسندیدہ ترین کچھ چیزوں کا انتخاب کر لیں۔ پھر آخری عشرے کی تمام راتوں میں  آپ تسلسل، یکسوئی اور یقین کے ساتھ اللہ سے وہ چیزیں مانگیں۔ اس طرح لازم ہے کہ آپ کی دعا لیلتہ القدر میں آ جائے گی۔ انشاءاللہ۔<br />
اور جو دعا اللہ کے حضور لیلتہ القدر میں پہنچے اس کی قبولیت کے امکانات تو پھر آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔<br />
سو یہ کر دیکھیں۔</p>
<h2><span style="text-decoration: underline;">اعتکاف بیٹھیں</span></h2>
<p>اعتکاف بیٹھنا ایک زبردست کام ہے جس کے بہت سے روحانی فوا ئد ہیں۔ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں جو یکسوئی اعتکاف کی حالت میں میسر آسکتی ہے وہ ویسے عام حالات میں ملنا مشکل ہوتی ہے۔<br />
اعتکاف کے اختتام پر خاموشی سے گھر لوٹ آنا ہی ٹھیک ہے۔ یہ جو لوگ ہار وغیرہ لے کر اعتکاف سے فارغ ہونے والے کو ایک جشن کی سی کیفیت میں لینے مسجد پہنچے ہوتے ہیں اس قسم کے سلسلے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔</p>
<h2><span style="text-decoration: underline;">جنید جمشید</span></h2>
<p>اس رمضان میں <a href="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/09/tv-one.png"><img class="alignnone size-full wp-image-1411" title="tv one" src="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/09/tv-one.png" alt="" width="35" height="35" /></a> چینل سے ہر  شام سات بجے جنید جمشید کے درس سننے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ کام کی باتیں بتاتا ہے یہ آدمی۔ اسے اللہ کی باتیں اتنے موثر انداز میں بتاتے دیکھ کر میں تو اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ اللہ کی شان ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو ناچنے گانے میں مگن اپنی زندگی بِتا رہا تھا اسے اللہ نے کیسی ہدایت سے نوازا کہ آج وہی شخص لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے۔ اکثر جنید خود بھی اپنے لہو و لعب اور گمراہی کے شب و روز کا ذکر کرتا ہے جب وہ بتاتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب کیسے اللہ نے اس کی زندگی میں برپا کیا۔</p>
<p>جنید انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں اپنے سننے والوں کو اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی سنیں اسے۔</p>
<h2><span style="text-decoration: underline;">قرآن تیز تیز پڑھنا</span></h2>
<p>رمضان میں بہت سا قرآن سننے کو مل جاتا ہے ہر رات تراویح کی صورت میں۔ قرآن پڑھنے کا جو ایک بنیادی سلیقہ ہے وہ یہ ہے کہ اس عظیم کلام کو ٹھیر ٹھیر کر اطمینان سے پڑھا جائے۔ اگر تیز پڑھنا بھی ہو تو ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہ پڑھا جائے اور اس پاک کلام کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔</p>
<p>لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مساجد میں تراویح پڑھانے والے قاری صاحبان اس بات کا خیال بالکل نہیں رکھتے اور انتہائی تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو تراویح پڑھنے والے لوگ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اس خرابی کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن امام صاحب کو اس روش کو چھوڑنے کا نہیں کہتے۔</p>
<p>پھر وہ جوقرآن کو ایک، دو یا تین راتوں میں ختم کرنےکے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہوتے ہیں ان میں اللہ کے کلام کو  تیز رفتاری سے پڑھنے کے اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اوپر سے گمان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ سلسلے  انتہا ئی روح پرورہیں۔</p>
<p>اگر کوئی پوچھنے کی کوشش کرے  کہ یہ والی سیٹنگ اور سلسلے کدھر سے آپ نے لیے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو رمضان میں باجماعت قیام اللیل صرف تین رات کیا تھا اور اس کے بعد صحابہ اکرام اپنے طور پر گھروں میں یا مسجد میں یہ نماز پڑھتے رہے  تو کہا جاتا ہے کہ جی مسلمان صدیوں سے یہ نماز یونہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔</p>
<p> آپ کہیں اچھا جی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تو جو ثابت ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے<br />
” بس چُپ۔ جس بات کا پتا نہ ہو وہ نہیں پوچھتے۔“</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-nights/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اس لیے سحری ضرور کھانی چاہیے</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/sahoor/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/sahoor/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 20 Aug 2010 10:12:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[روح کی غذا]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1376</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/sehri.jpg"><img src="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/sehri.jpg" alt="sahoor" title="sehri" width="530" height="200" class="aligncenter size-full wp-image-1377" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/sahoor/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>رمضان ۔۔۔ ایک قابل غور بات</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-requisites/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-requisites/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 16 Aug 2010 12:30:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[روح کی غذا]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1363</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/download.jpg"><img src="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/download.jpg" alt="real ramadan" title="real ramadan" width="530" height="200" class="aligncenter size-full wp-image-1366" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-requisites/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مساجد میں افطاری</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/iftar-in-masjid/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/iftar-in-masjid/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 13 Aug 2010 13:35:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[آہا زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1354</guid>
		<description><![CDATA[جس شام رمضان کا چاند نظر آیا اس رات مسجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی صفوں کی تعداد ڈبل ہو گئی۔ اگلے دن مغرب کے وقت یہ تعداد واضح طور پر اوربھی بڑھ گئی۔ مسجدوں میں افطار کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کے وقت خاصی گہماگہمی ہو جاتی ہے۔ ایک خاطرخواہ تعداد [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جس شام رمضان کا چاند نظر آیا اس رات مسجد میں نمازیوں سے بھری ہوئی صفوں کی تعداد ڈبل ہو گئی۔ اگلے دن مغرب کے وقت یہ تعداد واضح طور پر اوربھی بڑھ گئی۔ مسجدوں میں افطار کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کے وقت خاصی گہماگہمی ہو جاتی ہے۔</p>
<p> ایک خاطرخواہ  تعداد اس رونق میں ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو صرف افطاری سے مستفید ہونے کی نیت سے آئے ہوتے ہیں اور ان کے پروگرام میں افطاری کے بعد مغرب کی نماز میں شرکت کرنا شامل نہیں ہوتا۔ یہ لوگ کھا پی کر اور کچھ مزید اشیاء خورد و نوش شاپر میں ہمراہ لے کر جماعت کھڑ ی ہونے سے پہلے پہلے واپسی کا قصد کرتے ہیں ۔</p>
<p> اکثر مساجد میں تو ان کی یوں واپسی میں کوئی خلل نہیں ڈالا جاتا لیکن بعض مساجد میں  ذرا حساس طبع  قسم کے انتظامیہ والے ان کو یوں نہیں لوٹنے دیتے اور ان کو گفتگو اور ہلکے ہلکے دھکوں وغیرہ کی مدد سے مسجد کے اندر بھیج دیتے ہیں کہ آپ باجماعت نماز پڑھے بغیر یوں نہ جائیں۔ </p>
<p>اب ان بیچارے غریب لوگوں کے لیے  جو محض  پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہو کر مسجد کی افطار پارٹی میں آ نکلے تھے ایک عجیب نہ جاۓ ماندن نہ پاۓ رفتن والی کیفیت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر کا روزہ نہیں بھی ہوتا۔ اور بعض صورتوںمیں گمان غالب ہے کہ بیچ میں کچھ غیر مسلم بھی شکم پری کے چکر میں آن پھنستےہیں۔</p>
<p>مسجد کےھال میں پہنچ کر یہ مجبور کیا گیا گروہ پچھلی ترین صفوں میں کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ دوران نماز ان کی کیفیت اور حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی رش سے بھری سڑک پر لرنر لائسنس والے ڈرائیور کی ہوتی ہے۔لیکن چیلنج سے بھرپور یہ صورتحال  ان کے حوصلے اس طور پست نہیں ہونے دیتی کہ وہ آنے والے بقیہ دنوں میں نماز سے عاری افطاری میں شمولیت کا ارادہ ترک کر دیں۔ </p>
<p>سو رونقیں لگی رہتی ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/iftar-in-masjid/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قرآن ایکسپلورر اور ایک اور لنک</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/quran-explore/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/quran-explore/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 12 Aug 2010 18:14:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[روح کی غذا]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>
		<category><![CDATA[غور و فکر]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1334</guid>
		<description><![CDATA[ٰ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a title="quran explorer" href="http://www.quranexplorer.com/" target="_blank">اس ویب سائٹ</a> کو ملاحظہ فرمائیں اور وہاں  ٖLAUNCH QURAN EXPLORER کے سرخ بٹن کو کلک کریں۔</p>
<p>اس سائٹ میں اور بھی بہت کچھ فائدہ مند پائیں گے آپ انشاء اللہ۔</p>
<p><a title="seven habits for highly effective ramadan" href="http://urdu.adnanmasood.com/2010/08/%D8%B3%DB%8C%D9%88%D9%86-%DB%81%DB%8C%D8%A8%D9%B9%D8%B3-%D8%A2%D9%81-%DB%81%D8%A7%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%A7%D9%81%DB%8C%DA%A9%D9%B9%DB%8C%D9%88-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1/" target="_blank">اور یہ ایک اور لنک</a>۔۔۔ان لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جو رمضان میں سنجیدگی سے اللہ کی رضا کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/quran-explore/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہر سال رمضان میں۔۔۔</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-commitments/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-commitments/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Aug 2010 15:16:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[روح کی غذا]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1316</guid>
		<description><![CDATA[آج سعودی عرب اور امارات میں 2010 کے رمضان کا پہلا روزہ رکھا گیا۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں بھی رمضان کا چاند نظر آگیا ہے سو کل ہم بھی پہلے روزے سے ہوں گے۔انشاء اللہ۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر زندگی میں موقعہ عطا فرمایا کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج سعودی عرب اور امارات میں 2010 کے رمضان کا پہلا روزہ رکھا گیا۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں بھی رمضان کا  چاند نظر آگیا ہے سو کل ہم بھی پہلے روزے سے ہوں گے۔انشاء اللہ۔</p>
<p>اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر زندگی میں موقعہ عطا فرمایا کہ ہم رمضان کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔پچھلے چند ہی ہفتوں میں سیلاب میں، جہاز کے حادثے میں، فسادات اور قتل و غارت میں کتنے ہی لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عام حالات میں بھی کچھ پتا نہیں ہوتا کب کس کی موت آجائے۔ ایسے میں ایک اور ماہ رمضان کا مل جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ اس بات پر اللہ کا شکر کرتا ہوں۔  </p>
<p>ہر سال جب رمضان شروع ہوتا ہے تو میں ارادہ کرتا ہوں کہ اس مرتبہ رمضان کی اس نعمت سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی  سچی کوشش کروں گا۔ فر ض عبادات تو کروں گا ہی ساتھ میں ڈھیر سی نفلی عبادات بھی کروں گا۔ لغویات میں وقت بِتانے کی بجائے بہت سا قرآن پڑھوں گا۔ ساتھ میں اللہ کے اس کلام میں جو عظیم الشان رب کا پیغام ہے اس کو بھی سمجھنے کی کوشش کروں گا۔</p>
<p>اور صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ میں جن جن کاموں سے اللہ کریم نے منع فرمایا ہے ان سے ہر صورت اجتناب کروں گا چاہے میرے دل کو وہ کام کتنے ہی پر لطف اور سرور انگیز لگتے ہوں۔ نیز یہ کہ دوسرے انسانوں سے بات اور معاملات کرتے وقت ان سے برداشت، نرمی اور رواداری سے پیش آوں گا۔ نا مناسب الفاظ، زبان کی تیزی یا آواز و لہجہ کی سختی سے کسی کا دل نہیں توڑوں گا۔ علاوہ ازیں اس بات کو نہیں بھولوں گا کہ قرآن میں میں اللہ نے شرک اور فحش کاموں کی ہر ہر شکل سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ قرآن کے مطابق جنت نیک اعمال کے بدلے ہی میں ملنی ہے۔</p>
<p>یہ سب اور بہت کچھ۔ نہ جانے کیا کیا ارادے کرتا ہوں۔ اور یہ بھی سوچتا ہوں کہ رمضان میں تو شیطان قید کر دیا جاتا ہے لہذا نیکی کے ان تمام ارادوں کو عملی جامہ پہنانے میں مجھے چنداں مشکل نہیں ہو گی۔ </p>
<p>اور پھر جب رمضان گزر جاتا ہے تو یہی احساس دل میں رہ جاتا ہے کہ اس مرتبہ بھی اعمال کی درستگی کا وہ اہتمام جو کہ میں کر سکتا تھا رمضان میں وہ کر نہیں سکا۔ شیطان تو مقید تھا تو پھر یہ شاید ہمارا نفس ہوتا ہے جو خیر کی طرف نہیں بڑھنے دیتا اور ہر اس کام کو جس سے کائنات کے مالک نے ہم کو منع فرمایا ہوتا ہے اسے نہایت دلکش بنا کر ہمیں دکھاتا ہے۔</p>
<p>اللہ ہم پر رحم فرمائے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-commitments/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>رمضان المبارک ۱۴۳۱</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-kareem/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-kareem/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 10 Aug 2010 13:30:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[آہا زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان کریم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1310</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/ramadan.jpg"><img src="http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/wp-content/uploads/2010/08/ramadan.jpg" alt="ramadan kareem" title="ramadan kareem" width="500" height="457" class="alignleft size-full wp-image-1311" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/ramadan-kareem/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عجب آزادمردتھا</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/funeral-drumbeat/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/funeral-drumbeat/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Jul 2010 12:54:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[آہا زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[دھیان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1279</guid>
		<description><![CDATA[ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نوے سالہ ملنگ کو اس کے مریدوں نےڈھول ڈھمکوں کے ساتھ قبر میں اتارا۔ بابا دلدار حسین نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کی میت کو ڈھول اور باجوں کے شور میں تدفین کے لے جایا جائے۔ مرحوم کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نوے سالہ ملنگ کو اس کے مریدوں نےڈھول ڈھمکوں کے ساتھ قبر میں اتارا۔</p>
<p> بابا دلدار حسین نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کی میت کو ڈھول اور باجوں کے شور میں تدفین کے لے جایا جائے۔ </p>
<p>مرحوم کی میت پر کرنسی نوٹ بھی نچھاور کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/funeral-drumbeat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>27</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اور سٹاک مارکیٹ میں لوگ باگ تیزی مندی کی  پیشن گوئی کیسے کرتے ہیں</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/stock-prices-prediction/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/stock-prices-prediction/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Jul 2010 15:51:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[آہا زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[دھیان]]></category>
		<category><![CDATA[سٹاک مارکیٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1268</guid>
		<description><![CDATA[خزاں کا موسم تھا۔ ایک ریڈ انڈین قبیلے کے لوگوں نے اپنے نئے سردار سے پوچھا کہ موسم سرما اس مرتبہ شدید ہو گا یا پھر اس دفعہ سردی کم پڑے گی۔ اب کیونکہ وہ ایک جدید زمانے کا ریڈ انڈین سردار تھا اس لیے اس کو یہ ملکہ حاصل نہ تھا کہ قبل از [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>خزاں کا موسم تھا۔ ایک ریڈ انڈین قبیلے کے لوگوں نے اپنے نئے سردار سے پوچھا کہ موسم سرما اس مرتبہ شدید ہو گا یا پھر اس دفعہ سردی کم پڑے گی۔ اب کیونکہ وہ ایک جدید زمانے کا ریڈ انڈین سردار تھا اس لیے اس کو یہ ملکہ حاصل نہ تھا کہ قبل از وقت آنے والے موسم کا  اندازہ  کر سکے۔ تاہم “سیف سائڈ” پر رہتے ہوئے اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو یہی کہا کہ اس مرتبہ شدید سردی پڑنے کا امکان ہے لہذا لازم ہے کہ وہ لوگ سخت موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی سے کافی مقدار میں لکڑی اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔</p>
<p>اب چونکہ وہ سردار ایک سمجھ دار آدمی تھا سو کچھ دنوں بعد اس کو خیال آیا کہ محکمہ موسمیات والوں کو بھی فون کر کے ذرا آنے والے موسم کا پوچھ لیا جائے تو بہتر ہے۔ اس کے سوال کے جواب میں فون پر محکمہ والوں نے اسے بتا یا کہ اس مرتبہ امکان ہے کہ سردی زیادہ پڑے گی۔</p>
<p>یہ جان کر اس سردار نے اپنے قبیلے والوں کو کہا کہ ضروری ہے کہ اس موسم سرما کو گزارنے کے لیے وہ لوگ اور زیادہ لکڑی اکٹھی کر لیں۔ سو اس گاوں کے لوگوں نے اور زور شور سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیں۔</p>
<p>کوئی ہفتہ بھر بعد سردار نے پھر محکمہ موسمیات کو فون کیا اور استفسار کیا کہ کیا اس مرتبہ سردیاں شدید ہوں گی؟ تو انہوں نے اسے جواب دیا کہ ہاں اس مرتبہ سردیاں لازم شدید ہوں گی۔</p>
<p>سردار نے پھر سے اپنے لوگوں کو اکٹھا کیا اور حکم دیا کہ دستیاب لکڑی کا ہر ہر ٹکڑا اکٹھا کر کے رکھ لیا جائے کیونکہ اس مرتبہ موسم سرما میں بہت زیادہ سردی پڑنی ہے۔</p>
<p>کوئی دو ہفتوں کے بعد اس سردار نے ایک مرتبہ پھر محکمہ موسمیات کے دفتر فون کیا اور پوچھا کیا آپ کو پکا یقین ہے کہ اس مرتبہ سخت سردی پڑنے والی ہے۔جواب ملا کہ بالکل پکی بات ہے کہ اس سال سردی کے پہلے ریکارڈ بھی ٹوٹ جائیں گے۔سردار نے پوچھا آخر آپ کو اس بات کا اتنا پکا یقین کیونکر ہے۔ </p>
<p>محکمہ موسمیات والے آدمی نے جواب دیا اس لیے کیونکہ اس مرتبہ ریڈ انڈین لوگ پاگلوں کی طرح لکڑی ذخیرہ کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/stock-prices-prediction/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا واقعی سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے؟</title>
		<link>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/how-stock-market-works/</link>
		<comments>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/how-stock-market-works/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 15 Jul 2010 11:47:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>احمد عرفان شفقت</dc:creator>
				<category><![CDATA[آہا زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[دھیان]]></category>
		<category><![CDATA[سٹاک مارکیٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/?p=1258</guid>
		<description><![CDATA[ایک مرتبہ ایک گاوں میں دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک نے گاوں والوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ بندر خریدنا چاہتا ہے۔ جو کوئی بھی اس کا پاس بندر پکڑ کر لائے گا وہ اسے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔ گاوں والے بہت خوش ہوئے کیونکہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک مرتبہ ایک گاوں میں دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک نے  گاوں والوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ بندر خریدنا چاہتا ہے۔ جو کوئی بھی اس کا پاس  بندر پکڑ کر لائے گا وہ اسے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔<br />
گاوں والے بہت خوش ہوئے کیونکہ قریبی جنگل میں بندروں کی بھر مار تھی اور انہیں لگا کہ وہ تو یوں اچھی رقم بنا لیں گے۔ </p>
<p>سب لوگ جا کر بندر پکڑ پکڑکر لاتے رہے اور وہ آدمی ان سے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے بندر خریدتا رہا۔ حتی کہ قریبی جنگل میں بندر اب تقریباً ختم ہونا شروع ہو گئے۔ گاوں والو ں نے بھی بندر پکڑنے کی کوشش اب ترک کر دی۔</p>
<p>تب اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب سے وہ گاوں والوں سے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا۔ اس سے گاوں والوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے ازسرنو مزید بندر ڈھونڈنے اور لانے کی سعی شروع کر دی۔ اب کے ان کے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت ہوتے رہے۔  لیکن جلد ہی اور بندر تلاش کرنا بہت ہی مشکل ہو گیا۔</p>
<p>اب اس آدمی نے نئی قیمت نکالی: آج سے بندر پچیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے جائیں گے۔ کچھ گاوں والوں نے پھر سے ہمت کی مگر اب کے بندر پکڑنا تو درکنار،کسی بندر کا نظر آ جانا بھی بڑی بات تھی۔ علاقے کے تمام بندر اس آدمی کے پاس بیچے جا چکے تھے۔ </p>
<p>پھر ایک صبح اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب وہ گاوں والوں سے بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا لیکن چونکہ اس کو کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا ہے لہذا اس کی غیر موجودگی میں اس کا اسسٹنٹ اس کی جگہ اس نئی قیمت پر بندروں کی خریداری جاری رکھے گا۔ </p>
<p>یہ کہہ کر وہ شخص اس گاوں سے چلا گیا۔ </p>
<p>اب پچاس ڈالر فی بندر قیمت تو ایسی تھی کہ گاوں کے ہر بندے کا جی للچا رہا تھا۔ مگر کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ قرب و جوار سے اور بندر اب پکڑ کر لانا قطعاً ممکن نہ رہا تھا۔ جتنے بھی بندر تھے وہ سب اب تک اس آدمی کو بیچے جا چکے تھے جنہیں اس نے وہاں پڑے ایک پنجرے میں بند کر رکھا تھا۔</p>
<p>ایسے میں اس آدمی کے اسسٹنٹ نے گاوں والوں کو ایک تجویز پیش کی۔ اس نے کہا دیکھو اگر تم اس آدمی کو مزید بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کرنا چاہتے ہو لیکن اب مزید بندر دستیاب نہیں ہیں تو اس کا ایک حل ہے۔ یہ جو بندر سامنے پنجرے میں بند ہیں جو میرے باس نے تم سے خریدے تھے، یہ میں تم کو پینتیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کر سکتا ہوں۔ تم چاہو تو مجھ سے  اس دام میں یہ تمام بندر خرید لو اور جب میرا باس شہر سے واپس آ جائے تو تم یہ سب بندر اس کو پچاس ڈالر فی بندر کی قیمت پر فروخت کر دینا۔ </p>
<p>گاوں ولوں نے جانا کہ یہ تو جی وارے نیارے ہو گئے۔ وہ سب اپنے گھروں کو گئے اور اپنی تمام جمع پونجی لے کر آ گئے۔ انہوں نے وہ تمام کے تمام بندر پینتیس ڈالر فی بندر کی ادائیگی کر کے خرید لیے۔</p>
<p>اس دن کے بعد نہ تو انہیں کبھی وہ پہلے والا آدمی نظر آیا اور نہ ہی اس کا اسسٹنٹ۔ بس ہر طرف بندر ہی بندر نظر آتے تھے۔   </p>
<p>کہتے ہیں سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے۔ </p>
<p>کیا واقعی یوں ہی چلتی ہے سٹاک مارکیٹ یا کچھ اور بھی محرکات ہوتے ہیں حصص کی قیمتوں کے اتار چڑھاو  کے پیچھے؟ آپ کا کیا تجربہ یا مشاہد ہ ہے؟  </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urdu.ahmedirfanshafqat.com/how-stock-market-works/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
