سپر سٹور میں کوئی گھنٹہ بھر صرف کرنے کے بعد آپ اپنی سامان سے بھری ٹرالی لیے کیش کاونٹر پہ پہنچتے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ قدرے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ آپکے آگےقطار میں صرف ایک آدمی ہے جو نیکر پہنے، ایک ٹوکری پکڑے کھڑا ہے،سو آپ جلدی فارغ ہو جائیں گے۔اس آدمی کی ٹوکری میں دو ایک جوڑے جراب، ایک ۵۰۰ ایم ایل کی پیپسی، تین بڑی موم بتیاں اور ایک رس کا پیکٹ پڑا نظر آ رہا ہے۔جلد ہی اس کے سامان کی بلنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن کئی منٹ گزرنے کے باوجود آپ کی باری نہیں آتی تو آپ دھیان دیتے ہیں کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ آپ سوچتے ہیں اتنا سا سامان تو زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں کیش رجسٹر سے گزر جانا چاہیےتھا تو پھر آخر کاونٹر کے دوسری جانب کھڑا شخص کر کیا رہا ہے؟

سو آپ کیشیئر کی جانب توجہ کرتے ہیں تو اسے ایک کارڈ ایک مشین میں پھیرتا ہوا پاتے ہیں۔ اس کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ اس کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔وہ کچھ توقف کرتا ہے اور پھر سے اس کارڈ کو مشین میں پھیرنے لگ جاتا ہے۔ساتھ میں کچھ بٹن بھی دباتا جاتا ہے۔ اس سب میں کئی منٹ اور گذر جاتے ہیں۔پھر آپ یہ دیکھ کر بے چینی کی ایک نئی لہر سے دوچار ہو جاتے ہیں کہ اب وہ کیشیئر کاونٹر سے ہٹ گیا ہے اور پتا نہیں کدھر چلا گیا ہے۔ اس دوران اس کارڈ کا مالک، یعنی وہ شخص جو لائن میں آپ سے آگے کھڑا ہے اطمینان سے موبائل فون پر کسی سے باتیں کرنے میں مشغول رہتا ہے۔

کافی دیر بعد وہ کیشیئر واپس آ کر اپنی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ کہیں سے ایک اور مشین لے کر آیا ہے اور اب اس والی مشین میں کارڈ کو پھیرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ کافی ٹائم گذر جاتا ہے۔ پھر کیشیئر پاس پڑے فون سے کسی سےاس مسلے کی بابت کچھ بات کرنے لگ جاتا ہے۔آپ کھڑے بیزار ہوتے رہتے ہیں۔فون رکھ کر کیشیئر اس گاہک سے کچھ کہتا ہے۔ جواب میں وہ گاہک کمال بے اعتنائی سے ایک اور کارڈ کیشیئر کے سامنے پھینک دیتا ہے۔ اب کیشیئر اس والے کارڈ کو لے کر مشین پر طبع آزمائی کرنے میں مگن ہو جاتا ہے۔ کئی منٹ گزر جاتے ہیں۔

آخر کار کچھ آوازیں مشین سے آتی ہیں جن سے لگتا ہے کہ اب کی بار کام یابی ہو گئی ہے۔کچھ دیر بعد کیشیئر اس صاحبِ کارڈ کے سامنے ایک کاغذ رکھتا ہے جس پر جناب نے اپنے دستخط کرنے ہوتے ہیں۔ وہ صاحب لکھنا شروع کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ قلم جواب دے گیا ہے۔وہ اس کو پاس پڑی بل بک کے گتے پر رگڑتے ہیں۔ پھر قلم کی نب کو کا ؤنٹر پر یوں زور زور سے مارتے ہیں جیسے قلم کو دانا چگا رہے ہوں۔ پھر اس کو ہوا میں پوری طاقت سے چھڑکنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیشیئر اس اثنا میں کوئی دوسرا آلہ تحریر ڈھونڈنے کے لیے اپنی جگہ سے ہٹنے ہی لگتا ہے کہ آپ تلملاتے ہوئے اپنا قلم نکال کر پیش کر دیتے ہیں۔

ایک طویل وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے جس کے دوران آپ اندرہی اندر بلبلا تے رہے کہ خدارا ان ادھاریئوں کے لیئے الگ کاونٹر بنالو۔ان کی چند سو کی شاپنگ کے لیئے دس ہزار کیش کے گاہک کو ناحق تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔ مگر یہ بات دکان ولوں کی سمجھ میں شاید کبھی نہیں آ سکتی۔

ان ادھارکے دلدادہ لوگوں کے جنجال صرف شاپنگ مالز تک ہی محدود نہیں۔ اپنی زندگی تو یہ ادھاریئے ادھار لے لے کرآخر کار اجیرن کر ہی لیتے ہیں لیکن باقی معاشرہ بھی ان کے غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی سے بے طرح متاثر ہوتا ہے۔

۱۹۲۹ میں جو امریکی سٹاک مارکیٹ کریش ہو گئی تھی وہ ان ادھاریئوں کے سبب ہی ہوئی تھی۔ اس وقت پھیلنے والی عالمی کساد بازاری کی جڑوں میں یہ قرض کے رسیا لوگ ہی تھے۔ ہمارے اپنے بازار حصص میں جب بھی کوئی بھونچال آیا انہی بدلے والوں کی وجہ سے آیا۔ ماضی قریب میں سڑکوں پہ دیکھتے ہی دیکھتے جو کاروں کا بے انتہا اضافہ ہوا، انہی ادھار کے شوقین لوگوں کی وجہ سے ہی ہوا۔ جس کی اصل استطاعت شاید موٹر سائیکل خریدنے کی بھی نہ تھی اس نے بھی ادھار کے پیسوں کی گاڑی لی، اس میں سی این جی لگوائی اور سڑکوں پہ اندھی مچا دی۔ جلد ہی ان میں سے آدھی سے زیادہ گاڑیاں بنک نے واپس ضبط کر لیں کیونکہ ادھاریئے حسب معمول ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ۲۰۰۸ میں امریکہ میں جو سب پرائم فیاسکو کا طوفان اٹھا، وہ تبھی اٹھا جب لاکھوں ادھاریئوں نے ادھار کی واپسی کے وقت ہنس کر دکھا دیا۔پچھلے سال دبئی کا مالیاتی پٹاخہ بھی اسی وجہ سے پھوٹا کیونکہ ساری ٹیپ ٹاپ، شو شا ادھار پہ ہی کھڑی تھی۔

اللہ رحم کرے اگر انسان مجبوری میں کسی اشد ضرورت کی وجہ سے ادھار کے چنگل میں پھنس جائے تو اور بات ہے۔ مگر محض دیکھا دیکھی، صرف لائف سٹائل کو ٹی وی پہ دکھائے جانے والی زندگیوں کے مطابق بنانے کے لئے بغیر سوچے سمجھے ادھار لیتے چلے جانا کسی طرح بھی کبھی بھی خیر والی بات نہیں ہو سکتی۔

کریڈٹ کارڈ، لیزنگ، مورگیج، پرسنل لون، انسٹالمنٹس وغیرہ ۔۔۔نام چاہے کچھ بھی ہو ادھار ہوتا ایک لعنت ہی ہے۔