عمومی رحجان یہی ہے کہ ہم ایک اچھی سی ڈگری حاصل کریں تاکہ ہم کو ایک اعلیٰ قسم کے آفس میں ایک اچھی سی نوکری مل جائے۔آفس میں انہوں نے ہمارے لیےکیوبیکلز بنائے ہوتے ہیں۔ وہاں ہمیں دن کے آغاز میں پہنچنا ہوتا ہے اور باقی دن وہ سب کرنا ہوتا ہے جو ہمیں کرنے کے لیے دیا گیا ہو۔درمیان میں ہمیں ایک وقفہ دیا جاتا ہے جسے لنچ بریک کہتے ہیں تاکہ بھوک کی وجہ سے ہمارے کام کی کوالٹی خراب نہ ہو جائے۔ پھر اپنی بقیہ زندگی ہمیں اپنا پورا دن جب تک کہ وہ ڈھل نہ جائے اپنے آفس میں گزارنا ہوتا ہے۔

اس کے عوض ہمیں کچھ رقم دی جاتی ہے جو کہ ان چیزوں کو خریدنے کے لیے ناکافی ہوتی جو ہمیں درکار ہوتی ہیں۔لہذا ہمیں کچھ ادھاربھی پکڑنا پڑتا ہے جس پر اکثر ہمیں سود بھی دینا پڑتا ہے جو دیکھنے میں تو زیادہ نہیں لگتا لیکن حقیقت میں یہ اتنی بڑی رقم بن جاتی ہے کہ اس کی ادائیگی کرنا ذہنی سکون اور عزت نفس کی پامالی کا باعث بنتا ہے۔

لیکن ہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے مذکورہ بالا سیٹ اپ قابل قبول نہیں ہوتا۔ان کے دل میں ایک شدید خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح انہیں دفتروں کی قید اور نوکری کی غلامی سے نجات مل جائے۔وہ ایک لیول اوپر آنا چاہتے ہیں ہیلمٹ ڈبہ لائف سٹائل سے جس میں ہم روزانہ ایک ہاتھ میں ہیلمٹ اور دوسرے ہاتھ میں کھانے کا ڈبہ تھامے آفس میں داخل ہوتے ہیں۔وہ اس مشقت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا شخص روزانہ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنا وقت کیسے گذاریں۔اورجس آزادی اور خودمختاری کے یہ لوگ خواہاں ہوتے ہیں وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔لہذا وہ خاصے عرصےتک پکے دھیان اور مستقل مزاجی کے ساتھ زبردست تگ و دو جاری رکھتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بالاخر اپنے مقصدمیں کامیاب ہو جا تے ہیں۔بلکہ ان میں سے بعض تو اس مقام تک بھی جا پہنچتے ہیں جہاں آدمی کو پیسے کے لیے کام نہیں کرنا پڑتا بلکہ پیسہ آدمی کے لیے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

لیکن ایسےسر پھرے بہت کم ہوتے ہیں۔

باقی سب روتے دھوتے، گلے شکوے کرتے رہتے ہیں لیکن اندر سے وہ ان حالات کو جن میں کہ وہ ہوتے ہیں قبول کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ مستبقل کی طمانیت کے حصول کے لیے اپنی موجودہ آسانی کی قربانی نہیں دینا چاہتے۔ ایک دیرپا آسائش کے حصول کی خاطر اپنے حالیہ کمفرٹ زون سے کچھ دیر کے لیے باہر آنا انہیں قبول نہیں ہوتا۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو تمام دفاتر ویران ہو جاتےاور بڑی بڑی کمپنیاں اور کارپوریشنز جامد ہو جاتیں۔