منہ دیکھنے
کچھ عرصہ قبل اظہر عابدی کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اپنے ناول Twilight کے بارے میں بات کی۔ اظہر آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ ان کا یہ ناول کراچی میں رہنے والی ایک ایسی خاتون کے بارے میں ہے جس کے بیٹے نے ایک آسٹریلوی عورت سے شادی کر لی۔
عابدی کہتے ہیں کہ وہ ان ماؤں کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے ہوتے ہیں اور پھر گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ان کے اس ناول کی تحریک یہی خیال بنا کہ نوجوان لوگ اپنے والدین کو تنہائی کے حوالے کر کے خود دور دراز کے ممالک میں پکے جا بستے ہیں۔
خود عابدی نے ایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کی جبکہ ان کے والدین کو امید تھی کہ وہ شادی کے لیے اپنے لوگوں ہی میں سے کسی کا انتخاب کریں گے۔ شادی کے بعد وہ پاکستان میں نہ رہ سکے کیونکہ ان کی بیوی یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی۔ اس کی خواہش کے مطابق عابدی اس کے ہمراہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ ان کے والدین پیچھے پاکستان میں رہ گئے۔ لیکن دور چلے جانے کے باوجود عابدی کے دل میں اپنے والدین کے لیے ایک احساس ذمہ داری ہمیشہ رہا۔
عابدی کہتے ہیں کہ بعد ازاں وہ جب بھی کچھ سال کے وقفے سے وطن واپس آتے تو اپنے والدین کو پہلے سے کچھ زیادہ بوڑھا اور کمزور پاتے۔ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے ہمیشہ ایک خدشہ ان کے دل کی گہرائی میں کہیں موجود رہتا کہ کسی دن ایک فون کال آئے گی جس میں ان کو یہ سننا ملے گا کہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا ہے۔اس قسم کے اندیشوں میں لپٹا ہوا ایک سوال اکثر ان کی سوچوں میں سر ابھارتا رہتا کہ کیا انہو ں نےاپنے وطن میں سکونت ترک کر کے اور ایک غیر ملکی سے شادی کرکے درست فیصلہ کیا تھا۔
عابدی کا یہ انٹرویو پڑھنا ایک اداس کر دینے والا تجربہ تھا۔ بہت سے لوگ جوانی میں اپنے گھر سے دور کسی اور ملک میں مستقل جا بسنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ لیکن وہ اس احساس تنہائی کا قطعاً اندازہ نہیں کر سکتے جو اپنی اولاد سے یوں جدائی کے نتیجے میں انکے والدین کو ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کو اس دکھ کا اندازہ بھی نہیں ہوتا جو ان کے والدین کو تب ہوتا ہے جب یہ لوگ پردیس میں کسی غیر ملکی سے شادی کر لیتے ہیں۔
ساری زندگی تو یہ لوگ والدین سے دور گزار دیتے ہیں لیکن جب یہی والدین آخر میں فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی میت کی تدفین رکی رہتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ ان کا وہ بیٹا جو سالوں پہلے ان کو چھوڑ کر کسی اور دنیا میں جا بسا تھا اب 12000 کلومیٹرز کا سفر طے کر کے ان کا منہ دیکھنے آ رہا ہے۔ اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ایسے لوگ بھی دیکھے گئے ہیں جو بہتر زندگی کے گمان میں والدین سے دور کہیں سمندر پار رہنے چلے تو گئے لیکن پھر انہوں نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ سوچا اور جانچا کہ کیا ایک ایسی زندگی کا انتخاب درست ہے جس میں آسانیاں اور آسائشیں تو ہیں لیکن ساتھ میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والا احساس زیاں اور پچھتاوا بھی ہے۔ اور پھر وہ لوٹ آئے۔
دھیان

اچھی تحریر ہے اور سوچ دلانے والی بھی۔ انٹڑویو کا لنک دے دیتے تو اور بھی اچھا تھا۔
لنک حاضر ہے جناب
یہ تحریر پڑھ کر مجھے ایسا لگا آپ مجھے جوتے مار رھے ہیں۔
ویسے اپنے متعلق میرا خیال کچھ اسطرح کا ھے۔
دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔
میرے والدین کے بچے بھی بیرون ملک مقیم ہے۔ بچوں نے مل کر ایک معقول فیصلہ کیا۔ اور والدین کو سپانسر کر کے اپنے پاس ہی بلا لیا۔ والدین اب اپنے بچوں کے پاس سکون سے رہتے ہیں۔ اور اگر وطن کی یاد ستائے تو ٹکٹ کٹا کر سیر کر آتے ہیں۔
باقیوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
یاسر بھائی۔۔
بائیس سال میں تو آدمی سچ مچ کا جاپانی ہو جاتا ہے۔ آپ ابھی تک “خوامخواہ” ہیں؟
یاسر،اگر ایسا ہے تو لوٹ آنے کے آپشن پہ غور کیا آپ نے؟
عثمان نے لکھا تھا:
یہ بہترین ہے۔ مقصد تو یہ ہے کہ اکٹھے رہیں۔دوریاں نہ ہوں۔ تو وہ مقصد تو یوں بھی پورا ہو جاتا ہے۔ خصوصاً جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کے قریب ہونا ضروری ہے۔
گھر وہی ہوتا ہے جہاں ماں باپ بیوی بچے اور ہو سکے تو بھائی بہن بھی ساتھ ہو اب چاہے وہ جنگل ہو صحرا رہگستان یا عالیشان محل بس یہی تو کل متاع ہوتی ہے انسان کی
ان سے دور رہ کر بھی بھلا جینا بھی کوئی جینا ہے؟
یہ چیز۔۔۔
طارق، یہی تو بات ہے اصل۔
احمد عرفان شفقت صاحب،
یہ بات واقعی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے کہ جب آپ کو اپنوں کی ضرورت ہو تو وہ آپ کے پاس نہ ہوں۔ اسی سلسلے میں مجھے بھی ایک کہانی پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا یہ بہت اچھی کہانی ہے اور اسی حقیقت کا احساس دلاتی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ آپ چاہیں تو اس ربط سے پڑھ سکتے ہیں۔
http://www.scribd.com/doc/13083254/Chuban-Sachi-Kahani
اس کہانی کا لنک دینے کا بہت شکریہ۔ حقیقت سے بہت قریب لگی یہ کہانی۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملی کہ مدرز ڈے ہر روز ہوتا ہے، سال کے کسی ایک دن کو ماں کے لیے مخصوص کر چھوڑنا مغرب والوں کو ہی راس آ سکتا میں،ہمیں نہیں۔
یار اس کا ترجمہ بھی کر دے میرے جیسوں کے لیے
قسم سے انگریزی پڑھنے لگو تو دماغ سے کھڑ کھڑ کی آوازیں آنے لگتی ہیں
قسم سے مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ مجھے جوتے مارے ہیں
یار میرا ایک منٹ کو دل نی لگتا یہاں
پر مجبوری ہے
عثمان نے لکھا تھا:
یار یہ آپشن بھی ٹھیک ہے
پر ایک بچہ کہیں ایک کہیں اور باقی کہیں
والدین کو اپنے پاس بلالیں تو وہاں بھی ان کا اکیلے دل نہیں لگتا
ڈفر – DuFFeR نے لکھا تھا:
اے لو۔۔۔کر لو گل!
یار ڈفر!
میں نے ادھر وہ بندوبست کیا ہے۔۔۔ اور تسی۔۔۔انگریزی سے بھاگ رہے ہو۔
ویسے انگریزی سے نبٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ آوازوں والی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرو۔
کند جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
ایک نہیں تین محل خریدے پاکستان میں۔۔۔۔۔۔۔کیا کیا بتائیں آپ کو
ڈفر – DuFFeR نے لکھا تھا:
ارے ڈفر بھائی، ترجمہ کرنا اب تو کوئی بات ہی نہیں. گوگل ٹرانسلیشن ٹول ہے نا.اور وہ کتنی دل کو لبھانے والی اور دماغ کو تقویت پہنچانے والی ٹرانسلیشن کرتا ہے وہ تو آپ یہاں دیکھ ہی چکے ہیں.
یاسر خوامخواہ جاپانی کی اس بات کے جواب میں:
چلو یہ تو خوشی کی بات ہے آپ نے پراپرٹی بنا لی وطن میں۔ بہت سے بیچارے تو پردیس میں سالہا سال خوار ہونے کے بعد بھی ایک گھر تک نہیں اپنا بنا پاتے رہنے کو۔
ڈفر – DuFFeR کی اس بات کے جواب میں:
بالکل جناب۔ مجبوریاں تو ہوتی ہی ہیں اس ضمن میں۔ دل واقعی نہیں لگتا۔ بہت سخت تنہائی محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ دوسرے لوگ ہوتے ہیں آس پاس۔پر وہ بھی تو اپنی تنہائی سے ہی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔
والدین کا دل وہاں نہ لگنا بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ان کو بھی پردیس میں بلا لینے سے دوری والی بات تو ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ عمر کے جس حصے میں والدین پہنچ چکے ہوتے ہیں اس میں ان کو اجنبی معاشروں میں لے جا کر بٹھا دینا ان کے ساتھ زیادتی ہے چاہے وہاں ان کو کتنی ہی مادی سہولیات ہم دے دیں۔اس عمر میں ان کا دل اپنے مانوس ماحول میں اپنے رشتہ داروں کے قریب رہنے کو چاہتا ہے۔ اس عمر میں کینیڈا کی سردیاں اور امارات کی گرمیاں ان کے لیے مصیبت بن جاتی ہیں.
احمد عرفان شفقت کے جواب میں:
ہاں دیکھ تو چکا ہی ہوں
اس ترجمے کو پڑھو تو دماغ کی چولیں ہی نہیں ہلیں گی
پرزے بھی نکل نکل کر گرنے لگیں گے
احمد عرفان شفقت کے جواب میں:
بالکل صحیح بات لکھی ہے
میرا تجربہ بالکل یہی ہے
والدين کا پيچھا چھوڑ ديں آپ سارے اور بيوی بچوں پر توجہ ديں شکريہ
والدین کا پیچھا چھوڑدیں؟
ہاںجی، آپ کہہ سکتی ہیں
فرنچ جو ہوئیں
اور دس پندرہ سال کے بعد اولڈ ہوم میں چلی جائیں گی
پر ہم نے والدین کا پیچھا چھوڑ دیا
تو وہ کہاںجائیں گے
اور پھر بعد میںہم کہاںجائیںگے؟
نکالیں بڑی ٹارچ
اور ڈالیں روشنی۔۔۔
جعفر آپ سمجھے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زنانیاں صرف اپنا سوچتی ہیں۔خاوند اور اپنے بچوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ خیر کرے کہیں پھپھے کٹنی صاحبہ میرے پیچھے نہ پڑ جائیں۔پنجے جھاڑ کے
بعض اوقات کافی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر گلف میں رہنے والے بہت سارے مسائل میں گرفتار ہوتے ہیں۔ نہ والدین کو اپنے ہاں بلوا سکتے اور نہ خود اچھی بھلی ملازمت چھوڑ کر اپنے وطن جا سکتے۔ بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ والدین خود کہتے ہیں کہ بیٹا ، کچھ قربانیاں دے کر ہمارا ، اپنے بھائی بہنوں ، اقرباء اور اہل و عیال کا سہارا بنو۔
اور سہارا بننے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعفر اور جاپانی آپ دونوں شادی نہ کريں صرف والدين کی خدمت کريں کيونکہ شادی کے بعد انہوں نے کسی طريقے سے خوش ہو کر نہيں دينا حقيقت يہ ہے کہ انہوں نے خوش ہو کر دينا ہی نہيں کسی بھی طريقے سے
یہ اپنے کلیے سب پر فٹ نہ کریں
جعفر سچی مچی شادی مت کرنا۔میں بھی دوسری نہیں کروں گا۔توبہ توبہ
@ حیدرآبادی:
بات بالکل بجا ہےآپ کی جناب۔
پھپھے کٹنی کی اس بات کے جواب میں:
یہی رستہ آج سے پچیس سال بعد اگر کوئی آپ کے برخوردار کو دکھا رہا ہو تو؟
احمد عرفان شفقت کی اس بات کے جواب میں:
جواب ندارد
ازراہ مذاق
تو وہ جہنمی ہے
مدرس :
یعنی یہ بات آپ مذاقاً کہہ رہے ہیں؟
اپنے باقی ساتھیوں کی طرح ملک چھوڑ نہ سکنے کی بہت سی وجوہات کی فہرست میں سب سے اول یہی وجہ تھی۔ والدین کا کیا ہوگا؟
اس عمر میں انھیں چھوڑ نہ سکنے کی وجہ سے ابھی حال میں ہی ایک انٹر ویو چھوڑ کر آ گیا۔ اب ایک اور پر کشش پیش کش ہو ئی ہے، مگر دل ہے کہ ان کی وجہ سے مجھے تذبذب میں رکھے ہوئے ہے۔ بیرون ملک بحیثیت ڈاکٹر شائد بہت پیسہ کمانے کا موقع ملے مگر والدین؟ جنھوں نے پیٹ کاٹ کر مجھے پڑھا یا، ان کو چھوڑ بھی تو نہیںسکتا۔۔۔
ڈاکٹر منیر، آپ کی سوچ قابل قدر ہے۔ یہ قربانی کا جذبہ اب اتنا عام نہیں۔ لوگ سوچتے ہیں اتنی جذباتیت تو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گی۔
اللہ آپ پر فضل کرے گا انشاء اللہ۔ اطمینان قلب بڑی نعمت ہے۔
اسلام علیکم
اتنی اچھی اور سبق آموز تحریر اور آپ سب کے دل میں والدین کے لئے جو جذبہ دیکھا میرا دل کیا کہ میں بھی کچھ لکھوں۔۔جس طرح ہمارے والدین ہم پر اپنی ہر خوشی اور سکھ قربان کرتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنے فرض کو بخوبی نبھانا چاہیے اور بڑھاپے میں انکا سہارا بننا چاہئے۔ویسے سب کے خیالاتبہت اچھے ہیں لیکن حیدرآبادی بھائی نے جیسے کے مجبوری کا تذکرہ کیا”اور کہا کہ بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ والدین خود کہتے ہیں کہ بیٹا ، کچھ قربانیاں دے کر ہمارا ، اپنے بھائی بہنوں ، اقرباء اور اہل و عیال کا سہارا بنو۔اور سہارا بننے کیلئے ۔۔۔
کچھ پردیسی ایسے بھی ہوتے ہیں جنکا کوئی دیس میں انتظار کرنے والا نہیں ہوتا۔صرف جب کوئی ضرورت ہو یا پیسہ چاہیے تب ہی اس کو یاد کرتے ہیں ۔۔آج میں نے کچھ ان لوگوں کو سنجیدہ پایا جو اکثر ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں۔اللہ سب کے والدین کو ان سب سے خوش،راضی اور سلامت رکھےآمین۔۔
@ نور:
آمین