عجب آزادمردتھا
احمد عرفان شفقت نے ہفتہ، ۱۷ جولائی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نوے سالہ ملنگ کو اس کے مریدوں نےڈھول ڈھمکوں کے ساتھ قبر میں اتارا۔

بابا دلدار حسین نے اپنے مریدوں اور چاہنے والوں کو وصیت کی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کی میت کو ڈھول اور باجوں کے شور میں تدفین کے لے جایا جائے۔

مرحوم کی میت پر کرنسی نوٹ بھی نچھاور کیے گئے۔


ٹیگز
اور سٹاک مارکیٹ میں لوگ باگ تیزی مندی کی پیشن گوئی کیسے کرتے ہیں
احمد عرفان شفقت نے جمعہ، ۱۶ جولائی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.

خزاں کا موسم تھا۔ ایک ریڈ انڈین قبیلے کے لوگوں نے اپنے نئے سردار سے پوچھا کہ موسم سرما اس مرتبہ شدید ہو گا یا پھر اس دفعہ سردی کم پڑے گی۔ اب کیونکہ وہ ایک جدید زمانے کا ریڈ انڈین سردار تھا اس لیے اس کو یہ ملکہ حاصل نہ تھا کہ قبل از وقت آنے والے موسم کا اندازہ کر سکے۔ تاہم “سیف سائڈ” پر رہتے ہوئے اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو یہی کہا کہ اس مرتبہ شدید سردی پڑنے کا امکان ہے لہذا لازم ہے کہ وہ لوگ سخت موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی سے کافی مقدار میں لکڑی اکٹھی کرنا شروع کر دیں۔

اب چونکہ وہ سردار ایک سمجھ دار آدمی تھا سو کچھ دنوں بعد اس کو خیال آیا کہ محکمہ موسمیات والوں کو بھی فون کر کے ذرا آنے والے موسم کا پوچھ لیا جائے تو بہتر ہے۔ اس کے سوال کے جواب میں فون پر محکمہ والوں نے اسے بتا یا کہ اس مرتبہ امکان ہے کہ سردی زیادہ پڑے گی۔

یہ جان کر اس سردار نے اپنے قبیلے والوں کو کہا کہ ضروری ہے کہ اس موسم سرما کو گزارنے کے لیے وہ لوگ اور زیادہ لکڑی اکٹھی کر لیں۔ سو اس گاوں کے لوگوں نے اور زور شور سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیں۔

کوئی ہفتہ بھر بعد سردار نے پھر محکمہ موسمیات کو فون کیا اور استفسار کیا کہ کیا اس مرتبہ سردیاں شدید ہوں گی؟ تو انہوں نے اسے جواب دیا کہ ہاں اس مرتبہ سردیاں لازم شدید ہوں گی۔

سردار نے پھر سے اپنے لوگوں کو اکٹھا کیا اور حکم دیا کہ دستیاب لکڑی کا ہر ہر ٹکڑا اکٹھا کر کے رکھ لیا جائے کیونکہ اس مرتبہ موسم سرما میں بہت زیادہ سردی پڑنی ہے۔

کوئی دو ہفتوں کے بعد اس سردار نے ایک مرتبہ پھر محکمہ موسمیات کے دفتر فون کیا اور پوچھا کیا آپ کو پکا یقین ہے کہ اس مرتبہ سخت سردی پڑنے والی ہے۔جواب ملا کہ بالکل پکی بات ہے کہ اس سال سردی کے پہلے ریکارڈ بھی ٹوٹ جائیں گے۔سردار نے پوچھا آخر آپ کو اس بات کا اتنا پکا یقین کیونکر ہے۔

محکمہ موسمیات والے آدمی نے جواب دیا اس لیے کیونکہ اس مرتبہ ریڈ انڈین لوگ پاگلوں کی طرح لکڑی ذخیرہ کر رہے ہیں۔


کیا واقعی سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے؟
احمد عرفان شفقت نے جمعرات، ۱۵ جولائی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.

ایک مرتبہ ایک گاوں میں دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک نے گاوں والوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ بندر خریدنا چاہتا ہے۔ جو کوئی بھی اس کا پاس بندر پکڑ کر لائے گا وہ اسے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے ادائیگی کرے گا۔
گاوں والے بہت خوش ہوئے کیونکہ قریبی جنگل میں بندروں کی بھر مار تھی اور انہیں لگا کہ وہ تو یوں اچھی رقم بنا لیں گے۔

سب لوگ جا کر بندر پکڑ پکڑکر لاتے رہے اور وہ آدمی ان سے دس ڈالر فی بندر کے حساب سے بندر خریدتا رہا۔ حتی کہ قریبی جنگل میں بندر اب تقریباً ختم ہونا شروع ہو گئے۔ گاوں والو ں نے بھی بندر پکڑنے کی کوشش اب ترک کر دی۔

تب اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب سے وہ گاوں والوں سے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا۔ اس سے گاوں والوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور انہوں نے ازسرنو مزید بندر ڈھونڈنے اور لانے کی سعی شروع کر دی۔ اب کے ان کے بندر بیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت ہوتے رہے۔ لیکن جلد ہی اور بندر تلاش کرنا بہت ہی مشکل ہو گیا۔

اب اس آدمی نے نئی قیمت نکالی: آج سے بندر پچیس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے جائیں گے۔ کچھ گاوں والوں نے پھر سے ہمت کی مگر اب کے بندر پکڑنا تو درکنار،کسی بندر کا نظر آ جانا بھی بڑی بات تھی۔ علاقے کے تمام بندر اس آدمی کے پاس بیچے جا چکے تھے۔

پھر ایک صبح اس آدمی نے اعلان کیا کہ اب وہ گاوں والوں سے بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے خریدے گا لیکن چونکہ اس کو کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا ہے لہذا اس کی غیر موجودگی میں اس کا اسسٹنٹ اس کی جگہ اس نئی قیمت پر بندروں کی خریداری جاری رکھے گا۔

یہ کہہ کر وہ شخص اس گاوں سے چلا گیا۔

اب پچاس ڈالر فی بندر قیمت تو ایسی تھی کہ گاوں کے ہر بندے کا جی للچا رہا تھا۔ مگر کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ قرب و جوار سے اور بندر اب پکڑ کر لانا قطعاً ممکن نہ رہا تھا۔ جتنے بھی بندر تھے وہ سب اب تک اس آدمی کو بیچے جا چکے تھے جنہیں اس نے وہاں پڑے ایک پنجرے میں بند کر رکھا تھا۔

ایسے میں اس آدمی کے اسسٹنٹ نے گاوں والوں کو ایک تجویز پیش کی۔ اس نے کہا دیکھو اگر تم اس آدمی کو مزید بندر پچاس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کرنا چاہتے ہو لیکن اب مزید بندر دستیاب نہیں ہیں تو اس کا ایک حل ہے۔ یہ جو بندر سامنے پنجرے میں بند ہیں جو میرے باس نے تم سے خریدے تھے، یہ میں تم کو پینتیس ڈالر فی بندر کے حساب سے فروخت کر سکتا ہوں۔ تم چاہو تو مجھ سے اس دام میں یہ تمام بندر خرید لو اور جب میرا باس شہر سے واپس آ جائے تو تم یہ سب بندر اس کو پچاس ڈالر فی بندر کی قیمت پر فروخت کر دینا۔

گاوں ولوں نے جانا کہ یہ تو جی وارے نیارے ہو گئے۔ وہ سب اپنے گھروں کو گئے اور اپنی تمام جمع پونجی لے کر آ گئے۔ انہوں نے وہ تمام کے تمام بندر پینتیس ڈالر فی بندر کی ادائیگی کر کے خرید لیے۔

اس دن کے بعد نہ تو انہیں کبھی وہ پہلے والا آدمی نظر آیا اور نہ ہی اس کا اسسٹنٹ۔ بس ہر طرف بندر ہی بندر نظر آتے تھے۔

کہتے ہیں سٹاک مارکیٹ یوں چلتی ہے۔

کیا واقعی یوں ہی چلتی ہے سٹاک مارکیٹ یا کچھ اور بھی محرکات ہوتے ہیں حصص کی قیمتوں کے اتار چڑھاو کے پیچھے؟ آپ کا کیا تجربہ یا مشاہد ہ ہے؟


بقیہ قصہ ایک حلالے کا
احمد عرفان شفقت نے بدھ، ۱۴ جولائی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.

اب وہ مصری شوہر تو قائل تھا اس بات پر کہ طلاق کے بعد اب ان دونوں کے دوبارہ ازدواجی بندھن میں بندھنے کا واحد رستہ یہ حلالہ ہی ہے۔ تاہم وہ خاتون اس بارے میں کچھ شش و پنج میں تھی۔ لیکن آخر کار کچھ ایسا ہوا کہ وہ بھی اس بات کو مان ہی گئی۔ جب یہ ہو گیا تو اس آدمی نے اب بلڈنگ کے چوکیدار کو آمادہ کرنے کی ٹھانی۔

وہ چوکیدار ایک درمیانی عمر کا انڈین مسلمان تھا اورمعاشی حالات کی وجہ سے اب تک غیر شادی شدہ تھا۔ وہ ایک خاموش طبع شخص تھا جو اپنے کام میں مصروف رہتا تھا۔ بلڈنگ کے مکینوں نے شاذ و ناذر ہی اسے بے کار کی گپ شپ وغیرہ کرتے دیکھا تھا۔ بیشتر وقت وہ بلڈنگ کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی میں ہی مگن رہتا تھا۔

سو اس کے پاس جب وہ مصری یہ تجویز لے کر آیا کہ وہ اس کی سابقہ بیوی سے شادی کر لے تو ظاہر ہے کہ وہ بھونچکا رہ گیا۔ اورجب اسے وضاحت سے بتا یا گیا کہ اس شادی کا اصل مقصد کیا ہے تو اس نے ان کے منصوبے کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ۔

لیکن وہ آدمی بھی اس بات پر کمر بستہ تھا کہ چوکیدار اس کی سابقہ بیوی سے شادی کر ہی لے لہذا وہ کچھ دن کے بعد پھر سے اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کو اس کی خدمات کے عوض ایک اچھی رقم کی پیشکش کی۔ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اگر یہ رقم کم ہے تو وہ اور زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ اس نے چوکیدار کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ کسی اور کو اس سارے معاملے کی کانوں کان خبر نہ ہو گی۔

سو آخر کار وہ چوکیدار راضی ہو ہی گیا۔

شادی کسی نہ کسی طور سرانجام پا ہی گئی اور چوکیدار خاموشی سے اس خاتون کو اپنے چھوٹے سےکمرے میں لے گیا۔ اس شادی کا نہ تو کوئ باقاعدہ اعلان ہوا، نہ کوئی تقریب منعقد ہوئی۔ نہ کوئی مہمان تھے نہ ہی کوئی مبارکبادوں کا سلسلہ بنا۔

گو کہ منصوبے کے مطابق اس چوکیدار نے اپنی بیوی کو اگلی صبح طلاق دینا تھی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ آخر جب چوبیس گھنٹے گزر گئے تو سابقہ شوہر صاحب کو شدید بےچینی ہونے لگی۔ سو اضطراب کے مارے اس بیچارے نے جا کر چوکیدار کا دروازہ پیٹا اور پوچھا کہ ابھی تک اس نے اس خاتون کو طلاق کیوں نہیں دی۔ جواب میں چوکیدار نے اس کو یقین دہانی کروائی کہ وہ تو طلاق دینے پر بالکل تیار ہے لیکن وہ بیوی طلاق سے انکاری ہے۔ ظاہر ہے اس مصری جوان کو چوکیدار کی اس بات کا ایک لمحے کے لیے بھی یقین نہیں آیا۔ وہ مان ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ عورت اپنے محبوب یعنی اس کو چھوڑ کر اس چوکیدار کی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے۔

لیکن چوکیدار ہی کی بات درست نکلی۔ اس خاتون نے اپنے سابقہ شوہر کو بتایا وہ اس کو ہر گز قابل بھروسہ نہیں سمجھتی کیونکہ وہ بہت خود غرض آدمی ہے اور ساتھ میں انتہائی غصیلا اور بد مزاج بھی۔ اسی لیے اس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب ایسے آدمی کے ساتھ رہے گی جو اس کی عزت کرتا ہے۔ اس نے اپنے سابقہ شوہر کو بتایا کہ اسے اندیشہ ہے کہ اگر وہ پھر سے اس سے شادی کر لے گی تو کسی دن پھر غیظ و غضب اور طیش کے عالم میں وہ دوبارہ اس کو طلاق دے ڈالے گا۔

اس بلڈنگ میں تمام لوگ اس کہانی سے واقف ہیں کہ کسطرح ایک عام، سادہ سے چوکیدار کی شادی ایک جوان، پڑھی لکھی خاتون سے ہو گئی۔ اب ایک سال ہونے کو ہے اور وہ دونوں اکٹھے ہی رہ رہے ہیں۔

اور وہ مصری شہزادہ۔۔۔وہ اس بلڈنگ کوچھوڑکر جا چکا ہے۔
×××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××

یہ واقعہ میں نے نادیہ کے بلاگ پر پڑھا۔ واقعہ لکھنے کے بعد انہوں نے جہاں اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہاں ایک ایسے آدمی کا بھی ذکر کیا ہے جس نے پشاور سے حلالہ کے لیے اپنی خدمات ضرورت مند لوگوں کے لیے پیش کی ہیں۔ یہ 32 سالہ صاحب اپنے اشتہار میں فرماتے ہیں:

حلالہ اعتماد کے ساتھ۔۔۔وہ جوڑے جو دوبارہ اکٹھے ہونا چاہتے ہیں اور حلالہ کے خواہشمند ہیں وہ بہت اعتماد سے مجھ سے رابطہ کریں۔ ہر بات صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔ یہ محض ثواب کی خاطر ہے، اور کوئی غرض نہیں۔ آپ کوصرف رہائش اور ٹکت کا انتظام کر نا ہو گا۔ اور پھر بس مجھے دعاوں میں یاد رکھیے گا۔

اشتہار کے نیچے ان صاحب نے ایک تصویر بھی دی ہوئی ہے۔

پوسٹ کے آخر میں نادیہ نے اس ویڈیو کا لنک بھی دیا ہے جو ان لوگوں کے لیے دلچسپی کی حامل ہے جو تین طلاق اور حلالہ کی شرعی حیثیت سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں:

اس ویڈیو کے چھ حصے ہیں۔


قصہ ایک حلالے کا
احمد عرفان شفقت نے منگل، ۱۳ جولائی ۲۰۱۰ کو شائع کیا.

یہ واقعہ متحدہ عرب امارات کی ایک رہائشی بلڈنگ میں وقوع پذیر ہوا جب تقریباً تین سال پہلے اس بلڈنگ میں ایک نوبیاہتا مصری جوڑا رہنے کے لیے آیا۔ یہ دونوں مصر سے کچھ عرصہ قبل اپنی اپنی نوکری کے سلسلے میں امارات آئے تھے۔ یہاں ان کی پہلی ملاقات مشترکہ دوستوں کی بدولت ہوئی۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے اور پھر شادی کر لی۔ وہ ایک اچھے قد کاٹھ کا وجیہ آدمی تھا اور خاتون بھی ایک خوبصورت گڑیا ہی لگتی تھی۔

دوسرے شادی شدہ لوگوں کی طرح ان دونوں میں بھی اختلافات، بحث، جھگڑا ہو جاتا تھا۔ حتیٰ کہ ایک دن ایسا بھی آیا کہ ان دونوں کو لگا کہ انکی جھک جھک اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب مفاہمت کا کوئی امکان نہیں۔سو انہوں نے طلاق کا رستہ اپنا لیا۔ طلاق کے بعد بھی وہ اسی بلڈنگ میں رہائش پذیر رہے لیکن اب الگ الگ اپارٹمنٹس میں۔

تاہم زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ موصوف پہ آشکارا ہوا کہ جناب اس خاتون کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس خاتون کی عدم موجودگی میں ان صاحب کو اپنے اندر میں ایک خلا محسوس ہونے لگا۔ اس آدمی کو زندگی اب بے معنی لگنا شروع ہو گئی۔ سو ایک دن وہ باہر اس عورت سے ملا اور اس کے لئے اپنی محبت کا اعتراف کر ڈالا۔ اس نے اس کو شادی کی ایک مرتبہ پھر پیشکش کی جو کہ اس خاتون نے اب کی بار بھی اشکبار آنکھوں کے ساتھ بخوشی قبول کر لی۔

بس صرف ایک مسئلہ تھا: شریعت کے مطابق ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ باقاعدہ طلاق ہو جانے کے بعد بس یونہی دوبارہ شادی کر لیتے۔ طلاق ایک ناخوشگوار چیز ہے اس لیے اس کے قواعد و ضوابط بھی ٹھوس قسم کے رکھے گئے ہیں تا کہ مرد حضرات جب جی میں آئے منہ اٹھا کر بیوی کو طلاق دینے نہ دوڑ پڑیں بلکہ اس انتہا ئی اقدام سے پہلے سو مرتبہ سوچیں، غور کریں۔

پھر ہوا یوں کہ ان دونوں کو کسی ناعاقبت اندیش نے حلالہ کا رستہ دکھایا۔ بتانے والے نے عارضی شادی کا یہ نسخہ ان دونوں کو اس طور بتایا کہ انہیں لگا کہ یہ توان کے معاملے کا بہت ہی سہل اور سیدھا سادہ حل ہے۔ اس جاہل نے اس آدمی کو کہا بس تم کوئی ایسا شخص ڈھونڈ لاو جو اس عورت سے نکاح کر لے- حقِ زوجیت ادا کرنے کے بعد وہ شخص اس عورت کو طلاق دے دے گا۔ بس پھر تم اس عورت سے دوبارہ نکاح کر لینا، اتنی سی بات ہے۔

وہ دونوں بیچارے دوبارہ ایک دوسرے کی زندگی کا ساتھی بننے کے اس قدر آرزومند تھے کہ انہیں لگا کہ یہ ہی ان کی مشکل کا بہترین مداوا ہے۔ اپنی بے تابی میں وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر گئے کہ اس قسم کی عارضی شادی کی شریعت میں واضح اور شدید مذمت کی گئی۔

سو وہ اب ایک ایسے آدمی کی تلاش میں تھے جو اس خاتون سے عارضی طور پر شادی کر سکے۔ اس میں اب اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک ایسا شخص ڈھونڈا جائے جو اپنی بات کا پکا ہو اور وعدے کے مطابق اگلی صبح اس عورت کو واقعی طلاق دے دے۔ ایسا آدمی مل جانا کوئی آسان نہ تھا۔ اسی لیے انہیں اس تلاش میں خاصا وقت لگ گیا۔ لیکن آخر کار ان کو اپنا مطلوبہ بندہ مل ہی گیا جو ان کے منصوبے کے لیے بہت مناسب تھا۔

اور وہ تھا ان کی بلڈنگ کا چوکیدار۔
جی وہی المشہور ناطور۔

آگے کیا ہوا۔۔۔یہاں پڑھیے



جملہ حقوق بحق ”احمد عرفان شفقت“ محفوظ ہیں.
ورڈ پریس ” سبز اردو تھیم “ منجانب م بلال م